خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 92

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۹۲ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب غیر مبائعین نے بعض اشتہارات وغیرہ بھی شائع کئے ہیں اور ہمارے اس جلسہ کے موقع پر انہوں نے یہ اشتہارات ان مقامات پر تقسیم کئے ہیں مثلاً چنیوٹ، چنیوٹ سے کراچی والے بھی گزررہے ہیں سیالکوٹ والے بھی گزر رہے ہیں لا ہو ر والے بھی گزر رہے ہیں۔اس قسم کے مقامات پر انہوں نے آدمی مقرر کر کے اشتہارات تقسیم کئے ہیں۔اگر صرف انہی اشتہارات کا سوال ہوتا جنہیں چھپے ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں تو جیسا کہ میں نے پہلے خاموشی اختیار کی تھی اب بھی خاموشی اختیار کر لیتا کیونکہ میں ان لوگوں کی باتوں کو قابل اعتنا نہیں سمجھتا لیکن مجھے یہ خیال آیا کہ ہزاروں آدمیوں کو ان اشتہارات کا علم ہوا ہے اور میرے بھائی مجھ سے یہ توقع رکھتے ہوں گے کہ میں اُن باتوں کا ضرور جواب دوں جو ان اشتہارات میں لکھی گئی ہیں۔پس اگر غیر مبائعین میرے منہ سے ہی کچھ سنا چاہتے ہیں تو وہ آج سن لیں جہاں تک عقائد کا سوال ہے میں اس خدا کی قسم کھا کر جس کے ہاتھ میں میری اور آپ کی گردنیں ہیں یہ اعلان کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کے دن سے لے کر آج کے دن تک ہمارے عقائد میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق حکم اور عدل ما نا اور تسلیم کیا ہے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔آپ علیہ السلام کا ہر حکم بطور حکم کے ہمارے لئے قابل قبول اور قابل عمل ہے اور ہم آپ کے ہر حکم کے قیام کیلئے اپنی جانیں تک فدا کرنے کے لئے تیار ہیں اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ حکم اور عدل ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہر حکم روحانی عدل اور انصاف کے مطابق ہے لیکن آپ لوگ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو حکم نہیں مانتے آپ سے کہا گیا کہ آپ اور باتوں کو ترک کر دیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک مختصری تصنیف ” ایک غلطی کا ازالہ ہے۔آپ اس کو شروع سے آخر تک پڑھ کر یہ فقرہ لکھ دیں کہ نہ اس سے زائد اور نہ اس سے کم پر ہمارا ایمان ہے۔آپ بھی دستخط کر دیں اور ہم بھی دستخط کر دیتے ہیں لیکن آپ اس انصاف کے فیصلہ کی طرف نہیں آتے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے بعض چھوٹے چھوٹے فقرے نکال کر ہم سے مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ ان کے نیچےتم دستخط کر دو۔آپ کی یہ بات اس شخص کی طرح ہے جو قرآن کریم کی ایک آیت کا ٹکڑا لا تَقْرَبُوا الصَّلوةَ (النساء:۴۴)