خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 88 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 88

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۸۸ ۲۶ جنوری ۱۹۶۷ء۔افتتاحی خطاب خواری نہیں۔اور ایسی صحت اور تندرستی تمہارے نصیب میں لکھی جا رہی ہے جس کے ساتھ کسی بیماری اور کمزوری کا کوئی خوف نہیں۔میرا رب تمہارے ایمانوں میں پختگی اور صدق اور وفا پیدا کرے۔خدا کی راہ میں تمہارے اعمال، اخلاص و ارادات سے پُر اور فساد سے خالی ہوں۔اللہ کرے کہ وہ سب راہیں جن کو تم اختیار کر و فلاح اور کامیابی تک پہنچانے والی ہوں میرے رب کی جنتوں میں تمہارا ابدی قیام ہو اور اس کی تسبیح اور حمد کے درمیان تَحيَّتُهُمْ فِيهَا سَلو (ابرھیم :۲۴) تم ایک دوسرے کے لئے سلامتی چاہنے والے اور اپنے رب سے سلامتی پانے والے ہو۔میرا رب تمہیں حسنِ عمل اور نیکو کاری کی راہ پر چلنے کی ہمیشہ تو فیق دیتا چلا جائے۔یہ دُنیا بھی تمہارے لئے جنت بن جائے۔جہاں شیطان کا عمل دخل نہ رہے اور جب کوچ کا وقت آئے تو فرشتے یہ کہتے ہوئے اس کی ابدی جنتوں کی طرف تمہیں لے جائیں۔سَلْمٌ عَلَيْكُمُ اللہ کی سلامتی ہو تم پر۔اس کی رحمت کے سایہ میں اس کے فضل کے تازہ بتازہ پھل تمہیں ملتے رہیں۔خدا کی حمد میں مشغول رہنا اور اس کا شکر بجالا نا تمہاری عادت بن جائے۔تم حقیقی معنی میں خدا کی جماعت بن جاؤ۔میرے رب کی ایک برگزیدہ اور چنیدہ جماعت۔تم پر ہمیشہ میرے رہے کی سلامتی نازل ہوتی رہے۔خدا کرے کہ تمہارے سب اندھیرے تمہارے پیچھے رہ جائیں اللہ کے نور سے تم منور رہو تمہارا نو ر تمہارے آگے آگے چلے۔عبودیت کا نور اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( النور :۳۶) کے ساتھ جا ملے اور قرب کا کمال تمہیں حاصل ہو۔اللہ کی رحمتیں ہمیشہ تم پر برستی رہیں۔اس کے فرشتوں کی دُعائیں تمہارے ساتھ ہوں۔سلامتی کے تحفہ کے تم حق دار ٹھہرو۔خدا کرے کہ ذکرِ الہی میں تم ہمیشہ مشغول رہو اور ذکر الہی کے اس سر چشمہ سے ابدی مسرتوں کے چشمے تمہارے لئے پھوٹیں اور بہہ نکلیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمیشہ تم پر سایہ فکن رہے۔تمہاری پاسبانی کرتی رہے اور اُس کے لطف و کرم کی چاندنی تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے چھپر کھٹوں پر نور افشانی کرتی رہے۔تمہارے اعمال اسی کے فضل سے بہتر پھل لائیں۔تمہارے دل اور تمہارے سینے ہمیشہ نیک تمناؤں اور نیک خواہشات ہی کا گہوارہ رہیں جو