خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 89
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۸۹ ۲۶ جنوری ۱۹۶۷ء۔افتتاحی خطاب تم چاہو تم پاؤ اور رب رحیم کی طرف سے سلامتی کا تحفہ تمہیں ہر آن ملتا ر ہے۔اللہ کا وعدہ تمہارے حق میں پورا ہو، اس کی محبت کے تم وارث بنو اور تمہارا وجود دُنیا پر یہ ثابت کر دے کہ اس کی راہ میں عمل اور مجاہدہ کرنے والوں، ایثار اور قربانی دکھانے والوں کو بہترین انعام ملتا ہے۔اللہ کی محبت کے وہ وارث ہوتے ہیں۔خدا کرے کہ اس کے قرب کی راہیں تم پر کھولی جائیں اور اُن راہوں پر گامزن رہنا تمہارے لئے آسان ہو جائے اور اللہ کرے کہ یہ راہیں تمہیں اس کی نعمت اور اس کے فضل کی جنتوں تک پہنچادیں۔آرام اور آسائش کی زندگی جہاں تم پر ہمیشہ سلامتی ہوتی رہے۔( دُعا ہے کہ ) میرا رب تمہیں نیکی پر قائم رہنے کی توفیق دیتا چلا جائے تا دنیوی جنت میں تم اُن گھروں کے مکین بنے رہو جو ذکر الہی سے معمور اور شیطانی وساوس سے بلند و بالا ہیں اور تا اُس اُخروی جنت میں بھی بالا خانوں میں تمہارا قیام ہو جہاں فرشتوں کی دُعائیں اور تمہارے خالق اور تمہارے رب کی طرف سے سلامتی کا پیغام ہر لحظہ تمہیں ملتا رہے۔قرآنی انوار سے تمہارے سینہ و دل ہمیشہ منور رہیں اور خدا کرے کہ یہ نوران راہوں کی نشان دہی کرتا رہے جو دارالسلام تک پہنچاتی ہیں۔تمہارے راستہ کی سب تاریکیاں دُور ہو جائیں۔رضوانِ الہی کی اتباع اس صراط مستقیم کو تمہارے لئے ہمیشہ روشن رکھے جو سیدھی اس کی جنت، اس کی رضا تک پہنچاتی ہے۔خدا کرے کہ میرے خدا کے روشن نشان تمہارے سینہ و دل میں محبت الہی کا ایک سمندر موجزن رکھیں۔میرا رب تمہیں نیک اعمال ، ہر شر اور فساد اور ریا سے پاک اعمال بجالانے کی توفیق عطا کرتا رہے۔میرا اللہ خود تمہارا ولی اور دوست بن جائے۔اُس کے قرب میں ، سلامتی کے گھر میں، تمہارا ٹھکانا ہو۔خدا کرے کہ تمہارا وجود دنیا کے لئے ایک مفید وجود ہو جائے۔ایک دُنیا کی دعائیں تمہیں ملتی رہیں۔سب ہی تمہیں جانیں اور پہنچانیں اور سب ہی تمہاری سلامتی چاہیں۔میرے اللہ کی موہبت خاصہ تمہیں جلد تر منزل مقصود تک پہنچا دے تو کل اور فرمانبرداری کے مقام پر ثبات قدم تمہیں حاصل ہو۔لقاء الہی کی جنت کے تم وارث بنو۔