خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 72
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۷۲ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب حلیم لڑکے کی ہم تجھے خوشخبری دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہو گا اور اس کا قائم مقام اور اس کا شبیہ ہو گا۔پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو اس لئے اس نے بمجرد وفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دے دی تا یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷۱۷ ) غرض اللہ تعالیٰ کی بشارتوں کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔مصلح موعود تین کو چار کرنے والا ہوگا۔یعنی تین تو وہ بھائی ہوں گے اور چوتھے بیٹے کی جو بشارت دی گئی ہے۔وہ اس کی صلب سے پیدا ہو گا گویا اس کے ذریعہ یہ پیشگوئی پوری ہو جائے گی کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا۔اب میں کچھ اپنے متعلق کہنا چاہتا ہوں میں بغیر کسی جھجک اور تکلف - آپ سب کے سامنے اور اپنے خدا کے حضور یہ اقرار کرتا ہوں کہ میں کچھ بھی نہیں تذلل نیستی اور انکسار کا وہ مقام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔میں اس مقام انکسار سے بھی کہیں نیچے ہوں کیونکہ حضور نے جن لوگوں کا ذکر فرمایا ہے ان کے کچھ کمالات کا بھی آپ نے ذکر فرمایا ہے لیکن یہاں کوئی کمال نہیں البتہ ذلت انکسار اور عاجزی پوری پوری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اور منجملہ عطیات کے ایک کمال عظیم جو قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبودیت ہے یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصان ذاتی اپنا پیش نظر رکھتے ہیں اور بشہو د کبریائی حضرت باری تعالی ہمیشہ تذلیل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت ، ذلت اور مفلسی اور ناداری اور پرتقصیری اور خطاواری سمجھتے ہیں اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں۔اس عارضی روشنی کی مانند سجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرض زوال میں ہوتی ہے۔پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الہیہ کے کامل شہود سے ان کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں۔