خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 65
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب اس سے زیادہ ہو لیکن اتنی تو بہر حال ہے ان پیشگوئیوں میں سے جو حضور نے بیان فرمائیں لیکن بعض بطور نمونہ دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ایک پیشگوئی جو حضور نے بیان فرمائی یہ ہے۔ہماری جماعت کی ترقی کا زمانہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت قریب آ گیا ہے اور وہ دن دور نہیں جبکہ افواج در افواج لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔مختلف ملکوں سے جماعتوں کی جماعتیں داخل ہوں گی اور وہ زمانہ آتا ہے کہ گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر احمدی ہوں گے اور ابھی سے مختلف اطراف سے خوشخبری کی ہوائیں چل رہی ہیں اور جس طرح خدا کی یہ سنت ہے کہ بارش سے پہلے ٹھنڈی ہوائیں چلاتا ہے تا کہ غافل لوگ آگاہ ہو جائیں اور اپنے مال و اسباب کو سنبھال لیں۔اس طرح خدا تعالیٰ نے ہماری ترقی کی ہوائیں چلا دی ہیں پس ہوشیار ہو جاؤ۔آپ لوگوں میں سے خدا کے فضل سے بہت سے ایسے ہیں۔جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی ہے۔آپ کے منہ سے باتیں سنی ہیں۔آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کیا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ آنے والوں کے لئے ہدایت اور راہنمائی کا باعث ہوں۔کیونکہ کوئی ایک شخص بہتوں کو نہیں سکھا سکتا“ (انوار خلافت۔انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۱۶۵) اب دیکھیں کہ حضور کی یہ پیشگوئی کہ وہ دن دور نہیں کہ جب اس سلسلہ میں مختلف ملکوں۔جماعتیں کی جماعتیں داخل ہوں گی۔کس شان سے پوری ہورہی ہے۔یہ الفاظ حضور نے ۱۹۱۵ء میں کہے تھے اور ۱۹۳۴ء میں تحریک جدید کا افتتاح ہوا ہے۔جس کے ذریعہ غیر ممالک میں با قاعدہ تبلیغ جاری کی گئی ہے۔۱۹۱۵ء میں تو کچھ بھی نہیں تھا۔۱۹۱۴ء میں جماعت کے صاحب اثر لوگ مرکز سے لاہور چلے گئے اور خزانہ اور دوسرا سامان ساتھ لے گئے۔جب خلافت ثانیہ قائم ہوئی ہے اس وقت خزانہ میں صرف چند آنے تھے اور ۱۹۱۵ء میں حضور نے مذکورہ بالا پیشگوئی کی ہے۔اب ظاہر ہے کہ ایک سال اور چند ماہ میں جماعت کی قوت اور طاقت اتنی نہیں بڑھی تھی کہ اس کو دیکھتے ہوئے کوئی قیاس یہ الفاظ کہ سکتا یہ الفاظ وہی کہہ سکتا ہے۔جسے خدا تعالیٰ نے پہلے سے اس کا علم دیا ہو۔پھر فرماتے ہیں۔دیکھو میں آدمی ہوں اور جو میرے بعد ہوگا وہ بھی آدمی ہی ہوگا۔جس کے زمانہ میں