خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 59
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب پر ہی بس نہیں۔قرآن کریم پر اور بہت سی کتب لکھیں اور میرا خیال ہے کہ حضور نے صرف قرآن کریم کی تفسیر پر ہی آٹھ دس ہزار صفحات لکھے ہیں تفسیر کبیر کی گیارہ جلدات بھی ان میں شامل ہیں۔۲۔کلام کے اوپر حضور نے دس کتب اور رسائل لکھے۔۳۔روحانیات، اسلامی اخلاق اور اسلامی عقائد پر اکتیس کتب اور رسائل تحریر فرمائے ۴۔سیرت وسوانح پر تیرہ کتب ورسائل لکھے۔۵۔تاریخ پر چار کتب و رسائل۔۶۔فقہ پر تین کتب ورسائل۔ے۔سیاسیات قبل از تقسیم ہند چھپیں کتب و رسائل۔۸۔سیاسیات بعد از تقسیم ہند و قیام پاکستان نو کتب و رسائل۔۹۔سیاسیات کشمیر پندرہ کتب اور رسائل۔۱۰ تحریک احمدیت کے مخصوص مسائل و تحریکات پر ایک کم سوکتب و رسائل۔ان سب کتب و رسائل کا مجموعہ ۲۲۵ بنتا ہے۔تو جیسا کہ فرمایا تھا۔وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا حضور کی ان کتب پر ایک نظر ڈال لیں تو ان میں علوم ظاہری بھی نظر آتے ہیں اور علوم باطنی بھی نظر آتے ہیں اور پھر لطف یہ کہ جب بھی آپ نے کوئی کتاب یا رسالہ لکھا۔ہر شخصی نے یہی کہا کہ اس سے بہتر نہیں لکھا جا سکتا سیاست میں جب آپ نے قیادت سنبھالی یا جب بھی آپ نے سیاست کے بارہ میں قائدانہ مشورے دیئے بڑے سے بڑا مخالف بھی آپ کی بے مثال قابلیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا۔غرض حضور کے علوم ظاہری و باطنی سے پر ہونے کے متعلق ایک بڑی تفصیل ہے جس کے ہزارویں حصہ میں بھی میں نہیں جاسکتا صرف ایک سرسری سی چیز آپ کے سامنے رکھ کر اس حصہ کو ختم کرتا ہوں پھر دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ اقوام عالم پر ظاہر کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ علوم و معارف جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے آپ کو عطا ہوئے۔ان کا ترجمہ مختلف زبانوں میں کیا جائے۔اگر خالی اردو میں ہی وہ علوم لکھے جاتے تو آپ کا دعوی بے معنی بن کر رہ جاتا کیونکہ غیر ممالک اور غیر اقوام اس سے فائدہ حاصل نہ کر سکتیں۔پس اگر اس مصلح موعود کے ذریعہ سے دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ تمام اقوام عالم پر ظاہر ہونا تھا۔تو