خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 653 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 653

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۵۳ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب نے پہلے سے جو کفر بازی شروع کر رکھی ہے باقی فرقوں کو کا فرقرار دینے کی وہ تو اسی طرح قائم ہے گی اور پھر تو مہدی حکم نہ رہا۔اس لئے اس نے شیعوں پر بھی فتوے دینے ہیں۔اس نے بریلویوں کے اوپر بھی اور ان کی روایات پر بھی فتویٰ صادر کرنا ہے۔اس نے اہل حدیث پر بھی فتویٰ صادر کرنا ہے۔اس لئے کہ ایسی احادیث اور روایات جو باہم متضاد ہیں ان کا باہمی تضاداس بات کی عقلی دلیل ہے کہ ایک بات درست ہوگی اور ایک بات درست نہیں ہوگی اور ہوسکتا ہے دونوں ہی غلط ہوں۔چنانچہ حضرت مسیح عود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو بھی حکم آئے گا تمہیں عقلاً یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ اس کا حکم ہی چلے گا۔آپ نے فرمایا خدا نے مجھے حکم بنایا ہے اس لئے احادیث کی روایات سے مجھے نہ ناپو بلکہ میرے فیصلوں سے اپنی احادیث کو نا پو اور جانچ پڑتال کرو اور حکم کے یہی معنی ہیں۔اس وقت میں یہ بات نہیں کر رہا کہ حاکم کون ہے بلکہ میں امت محمدیہ کے سارے فرقوں کو اس طرح مخاطب کر رہا ہوں جس طرح پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مخاطب کیا ہے اور جس طرح پہلوں نے مخاطب کیا ہے اور جس طرح قرآن کریم نے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخاطب کیا ہے کہ مہدی حکم ہو کر آئے گا۔پس اگر وہ مہدی سارے فرقوں کو درست قرار دے دے در آنحالیکہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے تو یہ تو ایک مجنون شخص ہی ہوسکتا ہے جو سارے فرقوں کو درست قرار دے دے لیکن اگر مہدی یہ کہے کہ یہ حدیث قرآن کریم کے منشاء کے خلاف ہے یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے اقوال وارشادات کے خلاف پڑتی ہے اس لئے قابل قبول نہیں ہے تو تمہیں ماننا پڑے گا آپ نے فرمایا قرآن کریم کی جو تفسیر میں کروں وہ تمہیں ماننی پڑے گی اور جن احادیث کے متعلق میں یہ کہوں کہ وضعی ہیں اور قبول کے قابل نہیں تو وہ بھی تمہیں ماننا پڑے گا اور جس کے متعلق میں یہ کہوں کہ قابل قبول ہیں وہ تمہیں قبول کرنی پڑیں گی۔اس لئے کہ خود تمہارے نزدیک مہدی حکم ہے اور حکم کی یہی تعریف ہے۔میری صداقت کے کیا دلائل ہیں وہ مجھ سے آکر پوچھو میں تمہیں سمجھا دوں گا لیکن یہ کہنا کہ ایک شخص مہدی بھی ہو اور وہ کفر بازی کو بند بھی نہ کرے، وہ مہدی بھی ہو اور اندرونی فتنوں کو دور بھی نہ کرے، وہ مہدی بھی ہو اور نعوذ باللہ اتنا مجنون بھی ہو کہ دو فرقوں کی متضادا حادیث کو صحیح قرار دے یہ تو نہیں ہوسکتا۔