خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 650
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب خلاف قرآن جیسی کتاب کے خلاف اتنا ز بر دست حملہ تھا کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔یہ حملہ ا زبر دست حملہ تھا کہ حملہ آوروں نے جو دیکھا اور سمجھا وہ یہ تھا کہ ان افواج نے ظلمات کے ان لشکروں نے یہ سمجھ لیا کہ حملہ بڑا سخت ہے اور اسلام کا اور صداقت کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے اور عقلاً بھی انہیں اسی نتیجہ پر پہنچنا چاہئے تھا ) کہ اسلام اب مغلوب ہو جائے گا اور باطل غالب آئے گا۔اس وقت امت محمدیہ میں بعض صلحاء بھی تھے۔شاید ہزاروں کی تعداد میں تھے۔اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کا مقام اور ان کا کام محدود تھا۔اپنے چھوٹے سے، محدود اور بڑے مختصر دائرہ میں وہ خدمت اسلام کر رہے تھے لیکن جو یلغار تھی وہ محدود نہیں تھی وہ تو سارے محاذ پر پھیلی ہوئی تھی اور ان صلحاء کی کوشش ( اللہ انہیں جزائے خیر دے ) اسلام کی شمع کو روشن اور زندہ رکھنے کے لئے تھی۔اسلام کے سورج کی روشنی کو ساری دنیا پر پھیلانے کے لئے نہیں تھی اور نہ ظلمات کے بادلوں کو چھانٹنے کے لئے تھی۔اسلام پر حملہ آوروں کو یہ نظر آرہا تھا کہ ہمیں بڑی طاقت مل گئی ہے ہم نے اپنی عقل کے غلط استعمال سے اسلام کے خلاف غلط قسم کی دلیلیں مہیا کر دی ہیں۔اعتراض کر دیئے ہیں۔سائنس کی ایجادات کو اسلام کے مقابلہ میں قرآن عظیم کے مقابلہ میں لا کر کھڑا کر دیا اور جیسا کہ میں نے خطبہ جمعہ میں بتایا تھا ہر قسم کی تحریف معنوی کی کوشش کی گئی ہے مگر خدا تعالیٰ نے جو سلسلہ ان کے مقابلے میں کھڑا کیا تھا وہ ان کو نظر نہیں آرہا تھا۔اس لئے وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم کامیاب ہوئے اور اسلام ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گیا۔یہ حالت تھی تیرہویں صدی اور چودہویں صدی ہجری کے ابتدائی سالوں کی۔گویا مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت سے معاقبل کا زمانہ انتہائی فتنوں کا زمانہ تھا۔انتہائی دجل کا زمانہ تھا۔انتہائی افترا کا زمانہ تھا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انتہائی گندہ دہنی کا زمانہ تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام کا در در کھنے والے لوگوں کے سر جھکے ہوئے تھے اور فخر سے سراٹھا کر اپنے مسلمان ہونے کا اعلان نہیں کیا کرتے تھے اور یہ مبالغہ نہیں۔۱۹۷۰ ء کے میرے مغربی افریقہ کے دورہ کے موقع پر ایک بھرے مجمع میں سیرالیون کے ایک بڑے مسلمان سیاسی لیڈر نے مجھ سے کہا ( وہ احمدی نہیں۔وہ کسی زمانہ میں سیرالیون میں نائب وزیر اعظم بھی رہ چکے ہیں ) کہ ہم احمدیت کے ممنون ہیں اس لئے کہ ان کے آنے سے پہلے اسلام کا نام لیتے ہوئے ہماری گرد نہیں شرم سے جھک جاتی