خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 649
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۴۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ وہ شیطانی طاقتیں اپنے قید خانہ سے نکلیں گی اور دجال کا دجل ساری دنیا میں پھیل جائے گا اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ انسانی اقدار جو روحانی اقدار کی بنیاد پر بنتی ہیں وہ بھی دنیا سے مٹادی جائیں گی۔روحانی رفعتوں کے حصول کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔کیونکہ انسان نے پہلے با اخلاق انسان بننا ہے اور پھر بعد میں یہ سوال پیدا ہونا ہے کہ وہ روحانی انسان بنے۔کفر والحاد اور فسق و فجور کا زمانہ یعنی خدا تعالیٰ سے دوری کا زمانہ آئے گا اور یہ اتنی شدت اختیار کر جائے گا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اے امت محمدیہ کے افراد! تمہاری اس زمانہ میں یہ حالت ہوگی کہ تم یہ سوچنا بھی نہ کہ مادی ذرائع سے ان دجالی طاقتوں کا مقابلہ کر سکتے ہومگر مقابلہ ضرور ہوگا۔جب مادی ذرائع سے ان دجالی طاقتوں کا مقابلہ ممکن نہیں ہوگا اور انہوں نے مغلوب ضرور ہونا ہے تو پھر اس کا صاف نتیجہ نکلتا ہے عقلا بھی اور اسلامی تعلیم کی رو سے بھی کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے کوئی روحانی منصوبہ تیار کر کے زمین پر بھیجے گا جو ان کا مقابلہ کرے گا اور ان کو پسپا کرے گا اور ان کو شکست دے گا اور وہ ناکام ہوں گے۔اس زمانہ کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ شروع سے قیامت تک شیطان سے عباد الرحمن کی جو جنگ ہونی ہے، باطل کے ساتھ حق کی جولڑائی ہونی ہے وہ آخری جنگ ہوگی جس کے بعد شیطانی طاقتوں کو ہمیشہ کے لئے اسلام کی روحانی طاقت مغلوب کرلے گی۔یہ زمانہ وہ زمانہ ہے جس میں مہدی معہود علیہ السلام نے معبوث ہونا ہے اور آخری زمانہ کی جو علامات بتائی گئی ہیں قرآن عظیم میں اور جو علامات بتائی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں ، اور جو علامات بتائی ہیں صلحائے امت نے ان کی ہمیں اس زمانہ میں بڑی کثرت نظر آتی ہے۔کیونکہ جب ہم ان علامات پر غور کرتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور صلحائے امت کے اقوال میں کیا گیا ہے تو ہمیں تاریخی طور پر بھی یہ نظر آتا ہے کہ ان کے ظاہر ہونے کا زمانہ تیرہویں صدی ہجری سے شروع ہوا ہے اور پھر یہ دجل اور یہ ظلمت اور یہ شیطانی ظلمات کا قوت کے ساتھ بڑھتے چلے جانا، یہ زمانہ کے ساتھ ساتھ ظہور پذیر ہوتا چلا گیا اور اس قدرز بر دست یلغار تھی (جیسا کہ میں پچھلے چند مہینوں سے اس موضوع پر خطبے دے کر آپ کے ذہنوں کو اس کے لئے تیار کر رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ اسلام پر اس قدر ز بر دست یلغار تھی کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ) خدا تعالیٰ کے خلاف محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے وجود کے