خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 617
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۷ ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار ہم دولت مند ہیں اس لئے کہ ہمارے پیسے میں اللہ تعالیٰ نے بڑی برکت ڈالی ہے دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۳ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔یہ دھند یہ برفانی ہوائیں اور طوفان بادوباراں دُنیا والوں کو دُنیا کے کاموں سے نہیں روکتے تو وہ جو اللہ تعالیٰ کے سپاہ ہیں اور جنہوں نے غلبہ اسلام کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کیا ہے وہ اس موسم کی خرابی سے کیسے پیچھے ہٹ سکتے یا اپنے گھروں میں بیٹھ سکتے یا نیکی کی باتیں سننے سے محروم رہ جاتے ؟ سردی بہت ہے اور سردی کی عادت کم ہے۔کیونکہ اس علاقہ میں سردی اتنی نہیں پڑتی لیکن اس آتش محبت کی وجہ سے جو ہماری روحوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بھڑ کائی ہم نے اس طوفانی اور برف کی طرح سرد موسم کی پرواہ نہیں کی اور بعض لوگوں کے خیالات کے خلاف اور اُن کی توقع کے خلاف اللہ تعالیٰ نے اس جلسہ کو ہر رنگ میں کامیاب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اس کی احسن جزاء دے۔وہ بشارتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ جماعت احمدیہ کو ملی ہیں وہ ایک یا دو یا تین بشارتیں نہیں۔ایسی بشارتیں ہیں جنہوں نے ساری دُنیا کو اپنے احاطہ میں لیا ہوا ہے اور جن سے آنے والی نسلیں (اگر وہ اپنے مقام کو نہ بھولیں ) قیامت تک حصہ دار ہیں۔ان بہت سی بشارتوں میں سے ایک بشارت یہ دی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔” میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گئے تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۰۹) چنانچہ دنیا کے کونے کونے میں اس علم اور اس معرفت کی مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔