خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 618 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 618

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۸ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطا۔ہمارے نوجوان مجاہد جو اس وقت مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں اُن کا واسطہ بسا اوقات ایسے معاندین اسلام سے بھی پڑ جاتا ہے کہ ظاہری علوم کے لحاظ سے ان کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں لیکن اللہ تعالی علاوہ بنیادی اجتماعی برکت کے اس وقت انفرادی برکت کے طور پر بھی ان کی مدد کے لئے آسمانوں سے فرشتوں کو بھیجتا اور ایسے جواب سکھاتا ہے جو مخالف کا منہ بند کر دیتے ہیں اور اُسے لاجواب کر دیتے ہیں۔خدا نے آسمانوں پر یہی فیصلہ کیا کہ اسلام کے دلائل دنیا کے ہر قسم کے دلائل پر فوقیت حاصل کریں اور اس نے جماعت احمدیہ کو اس کی توفیق عطا کی کہ وہ ان برکتوں سے مالا مال ہوں۔اس وقت میرے سامنے اکثریت زمینداروں کی ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ایک مرتبہ جب میں بچہ تھا۔جلسہ کے دن تھے۔میں اتنا چھوٹا بچہ تھا کہ میری ڈیوٹی لگائی بھی گئی تھی اور نہیں بھی لگائی گئی تھی۔یعنی حضرت میر محمد اسحاق صاحب نے میری ڈیوٹی اپنے ساتھ اپنے دفتر میں لگالی تھی کیونکہ میری عمر ایسی نہ تھی کہ صحیح طور پر جلسہ کے رضا کار جو کام کرتے ہیں وہ میں کرسکوں وہ مجھ سے چھوٹے موٹے کام لیتے رہتے تھے۔تاکہ میرے دل میں ایک تو بشاشت پیدا ہو کہ میں نے جلسہ سالانہ کے کاموں میں ایک حقیر سی کوشش کی ہے اور دوسرے عادت پڑے اور تجربہ حاصل ہو۔ایک شام رات کو کام سے فراغت کے بعد مجھ سے کہنے لگے اس وقت لوگ اپنے کھانے سے فارغ ہو گئے تھے۔قادیان میں اس قسم کی سردی قریباً ہر جلسہ پر ہوتی تھی۔پاکستان بننے کے بعد اب ہمیں اُس سردی کی عادت نہیں رہی۔بہر حال وہ مجھ سے کہنے لگے (مدرسہ احمدیہ کے ان کمروں میں جہاں افسر جلسہ سالانہ کا دفتر بھی تھا ) دیکھ آؤ کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو اور پھر مجھے آکر رپورٹ کرو۔اس وقت مجھے پتہ لگا کہ احمدی دوست اپنے ساتھ ایک دوست کو بھی لائے ہوئے تھے۔جو ابھی احمدی نہ تھا اور آپس میں وہ تبادلہ خیال کر رہے تھے تو ایک موقع پر ہمارا احمدی نوجوان جو خود طالبعلم تھا اُسے جواب سمجھ نہیں آیا۔اُس نے کہا ٹھہرو میں ابھی رکسی عالم کو لے کر آتا ہوں اور وہ تمہیں اس کا جواب دے کر تمھاری تسلی کروا دے گا۔وہ نکلا اور ساتھ والے کمرہ میں گیا۔اُس نے دیکھا کہ ایک سفید پگڑی پہنے لمبی داڑھی والا صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے اور چہرہ پر اسلام اور احمدیت کا نُور لئے ایک شخص بیٹھا ہے۔وہ سمجھا کہ یہ بزرگ کوئی بہت بڑا عالم یا مولوی ہے۔وہ کہنے لگا کہ ایک مسئلہ حل نہیں ہو رہا آکر اسے حل