خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 610 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 610

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب دور جانا ہے۔کسی نے پانچ ہزار میل دور جانا ہے۔کسی نے یہاں سے نو دس ہزار میل دور جانا ہے۔بہر حال یہ سفر عارضی ہے۔خدا تعالیٰ کرے کہ اس عارضی سفر میں آپ کو کوئی عارضی تکلیف بھی نہ پہنچے اور کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔کوئی دکھ نہ پہنچے۔خوش وخرم اور ہنستے اور مسکراتے چہروں کے ساتھ آپ یہاں سے روانہ ہوں اور اپنے مسکراتے چہروں کے ساتھ آپ اپنے گھروں کو پہنچیں اور ہمیشہ مسکراتے چہرے آپ کی قسمت میں رہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے مبلغوں کو بھی احسن جزاء دے کہ وہ ہمارے نمائندے ہیں۔ان کے ذہنوں کو جلا بخشے اور ان کی فراست کو تیز کرے اور ان کی عقل کو منور کرے اور ان کو غالب کرے اور تمام وہ ہتھیار ظاہری اور باطنی دے جس کے نتیجہ میں اسلام کا سپاہی غالب آیا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے خاندانوں میں بھی برکت ع کرے اور ان کی اولادوں میں بھی برکت ڈالے اور ان کے ذہنوں کو اسلام کے نور سے منور کرے اور خدا کرے کہ ان کا انجام بخیر ہو اور قیامت تک احمدیت اور اسلام کی نسلیں محبت اور پیار اور عزت و احترام کے ساتھ ان ہستیوں کو یا درکھیں۔اب دُعا کر لیتے ہیں۔دعا ئیں ہمیشہ ہی آپ کے ساتھ ہوتی ہیں۔اب بھی اجتماعی دُعا کرتے ہیں۔اس وقت بہت بڑا اجتماع ہے۔میرے خیال میں ساٹھ ہزار کے قریب احمدی اور دوسرے دوست بھی یہاں بیٹھے ہیں۔جلسہ گاہ بھر گئی ہے۔سارے مل کر عاجزی کے ساتھ اور تضرع کے ساتھ اور ابتہال کے ساتھ خدا کے حضور جھک کر یہ دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنا بنالے۔پھر ہمیں سب کچھ مل جائے گا۔کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہے گی۔آؤ اب دُعا کر لیں۔از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )