خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 576
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۶ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب بارہ میں قرآن کریم میں جو بنیادی اصول بیان ہوئے ہیں۔وہ مجھے سمجھائے چنانچہ اس وقت میں اُن ہی اصولوں کا اپنے بھائیوں کے سامنے ذکر کروں گا۔قرآن کریم نے ایک بنیادی اصول جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے اسوۂ حسنہ ہیں وہ آپ کا اول المسلمین ہونا بیان کیا ہے۔قرآن کریم میں آپ کے متعلق اول المسلمین کے الفاظ دو مختلف جگہوں پر مختلف مضامین کے ضمن میں استعمال ہوئے ہیں۔ایک تو سورہ زمر کی ان آیات میں بیان ہوا ہے۔قُلْ إِنّى أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ وَأُمِرْتُ لأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اطاعت صرف اُسی کے لئے مخصوص کر دوں اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں اول المسلمین یعنی سب میں سے بڑا فرمانبردار ہوں۔اس آیت کریمہ کے معنے سمجھنے اور سمجھانے کے لئے بعض دوسری آیات سامنے لانی پڑیں گی۔اس وقت میں ایک ہی آیت کولوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا ( النِّسَاء :۱۳،۱۲) تیرے پر خدا کا سب سے زیادہ فضل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ کوئی نبی تیرے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا ذاتی جو ہر میں بھی اور ظاہری خدمات کی رو سے بھی۔غرض یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ساری مخلوقات میں سے اول المسلمین یعنی اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے فرمانبردار ہیں اور اس مضمون کی وضاحت کرنے کے لئے وَكَانَ فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا میں اشارہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے اس کا مطلب کہ کوئی نبی نہ ایسا آیا اور نہ آ سکتا تھا جو فرمانبرداری کے مقام میں آپ سے بڑا ہوتا۔آپ سب۔بڑے فرمانبردار ہیں۔اس معنی میں اول المسلمین کہا گیا ہے کیونکہ یہاں آنحضرت کی زبانِ مبارک سے کہلوایا گیا ہے کہ مجھے خدائے واحد و یگانہ اور رب کریم نے یہ حکم دیا ہے کہ میں اول المسلمین بن جاؤں اور کسی سے پیچھے نہ رہوں۔بلکہ سب کو پیچھے چھوڑ دوں اور خود آگے نکل جاؤں۔پس اول المسلمین کے اس معنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اسوہ نہیں بن