خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 573 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 573

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۷۳ ۱۲۸ دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں قرآن کریم کے بیان فرمودہ بنیادی اصولوں کا ذکر اختتامی خطاب جلسه سالانه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا (الاحزاب : ۲۲) قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ وَ أُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ (الزمر : ۱۳۱۲) قُلْ إِنَّنِي هَدينى رَبِّي إِلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ O لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: ۱۶۴،۱۶۲) اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہمیں قرآن عظیم جیسی ہدایت اور نبی کریم جیسے افضل الرسل کا اسوہ حسنہ عطا فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم کے ذریعہ یہ اعلان فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک تمام بنی نوع انسان کے لئے اسوہ حسنہ ہیں یعنی آپ ایک ایسا نمونہ ہیں جو اپنی ذات میں انتہائی طور پر پاک اور مطہر ہے اور یہ ایک ایسا نمونہ ہے کہ جس کی اتباع اور اقتداء کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں انسان اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق پاک اور مطہر بن سکتا ہے۔اس اعلان سے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بنی نوع انسان کے لئے ایک اُسوہ حسنہ ہے۔طبعا یہ سوال پیدا ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ کس چیز میں اور کس حد تک آپ انسان