خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 519
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱۹ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب وہاں ایک راز کی بات ہے۔میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔آپ کسی کو نہ بتائیں ہمارے میڈیکل سنٹر مستحقین کا مفت علاج کرتے ہیں۔نہ صرف یہ کہ ڈاکٹر فیس نہیں لیتا بلکہ دوائی بھی مفت دی جاتی ہے۔خدمت کے لئے ہم وہاں گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دیتا ہے اور پیسے بھی دیتا ہے۔اپنی جیب میں سے تو کچھ نہیں دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہماری راہبری کے لئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی چیز ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے۔پیدائش کے وقت کون ایسا شخص ہے جو سونے سے جب بھر کر لایا کرتا ہے۔اُسے تو اپنی ہوش نہیں ہوتی۔غرض ہم مستحقین کا علاج مفت کرتے ہیں مگر کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جن سے فیس نہیں لیتے البتہ دوائی کی قیمت دو آنے چار آنے لے لیتے ہیں کیونکہ وہ دے سکتے ہیں لیکن کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس پیسے ہوتے ہیں اُن سے ہمارا ڈاکٹر خوب کھل کر فیس بھی لیتا ہے اور دوائی کی قیمت بھی لیتا ہے اور مریض اتنی کثرت سے آتے ہیں کہ ہمارا ایک میڈیکل سنٹر سال میں اوسطاً اڑھائی ہزار پاؤنڈ جاتا ہے۔یہ گویا اس کی بچت ہے۔اگر چار سنٹر ہوں تو دس ہزار پاؤنڈ سالانہ بچت ہے۔ہائی سکول کھولنے کے لئے ہمیں پہلے سال تقریباً ۳ ہزار پاؤنڈ کی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسرے سال بھی اتنی ہی رقم اور تیسرے سال بھی یہی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے اس کے بعد پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔میں نے گیمبیا میں اُن سے کہا کہ آپ چار میڈیکل سنٹر کھولنے میں میری مدد کریں۔میں آپ سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے ملک میں ہر سال ایک ہائی سکول کھولتا چلا جاؤں گا۔انشاء اللہ۔ہم نے وہاں جو پیسے کمانے ہیں۔وہ یہاں گھر تو نہیں لانے۔انہیں پر خرچ کرنے ہیں۔غرض اُن کے امیر سے لے کر ان کے غریب پر خرچ کر دیں گے۔جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے اقتصادی تعلیم اس لئے دی ہے کہ دولت صرف امراء میں چکر نہ لگاتی رہے۔یہ ایک بنیادی اصول ہمیں سکھایا گیا ہے۔جو امیر کہتے ہیں کہ ظلم ہو گا اگر ہم سے دولت لے لی جائے مگر قرآن کہتا ہے کہ یوں عمل ہونا چاہئے اس پر عمل کر کے تم پر ظلم کیسے ہو گیا تم پر بڑا احسان ہوگا۔تمہارے ملک میں کمیونزم نہیں آئے گا۔کیونکہ کمیونزم نے جائز حقوق دے کر زائد نہیں لیا تھا بلکہ سب کچھ لے لیا تھا جان بھی لے لی تھی۔اس لئے تم اپنی جان بچاؤ۔کمیونزم آ گیا تو تمہاری جانیں