خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 517
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب یہ تھا کہ اسلام تو صرف تلوار سے پھیل سکتا ہے۔تلوار ہم نے آپ کے ہاتھ سے چھین لی ہے۔اس لئے تم ہمارے ملکوں میں اسلام کیسے پھیلاؤ گے؟ میں نے کہا ہم آپ کے دل جیتیں گے اور اسلام کو پھیلائیں گے۔وہ حیران ہو کر میرے منہ کو دیکھتے تھے کہ یہ کیا جواب دے رہا ہے۔وہ تو یہ سمجھتے تھے کہ سوائے تلوار کے کوئی اور ذریعہ نہیں ہے اسلام کے پھیلانے کا۔چنانچہ اس وقت وہاں ایک ادھیڑ عمر کی صحافیہ بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔وہ بڑی خاموش اور سلجھی ہوئی طبیعت کی تھیں وہ کوئی سوال وغیرہ نہیں کر رہی تھیں۔اپنے نوٹ لکھ رہی تھیں۔اس موقع پر جب میں نے کہا کہ ہم تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام پھیلائیں گے تو اس نے آرام سے مجھ سے یہ سوال کر دیا آپ ان دلوں کا کیا کریں گے۔میں نے اس سے کہا ( اللہ فضل کرتا ہے اس وقت جواب سمجھ میں آجاتا تھا ) تمہارے دل جیتیں گے اور تمہارے پیدا کرنے والے رب کے قدموں میں جا کر رکھ دیں گے۔نائیجیر یا پہلا ملک تھا جہاں ہم گئے وہاں اب چار نہیں بلکہ دس میڈیکل سنٹر کھولنے کا پروگرام بن گیا ہے۔سولہ سکولوں کا میں کہہ کر آیا تھا تو انشاء اللہ سولہ سے زیادہ کھلیں گے وہاں حکومت بھی اور چیف بھی بہت زیادہ تعاون کرتے ہیں۔یہاں تو ہمیں بعض دفعہ گورنمنٹ کے ادارے مسجد کے لئے زمین نہیں دیتے۔اگر چہ اس کی گورنمنٹ تو ذمہ دار نہیں تو میونسپل کمیٹیاں یا قصبوں کی جو ٹاؤن کمیٹیاں ہیں وہ تعصب سے کام لیتی ہیں مگر انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔بہر حال حکومت کو پوچھنا تو چاہئے لیکن اس سلسلہ میں حکومت پر الزام نہیں لگا سکتے۔غلط جگہ پر الزام بھی نہیں لگتا چاہیے۔مسجد بنانی ہوتی ہے مگر خدا کا گھر بنانے کے لئے زمین نہیں مل رہی ہوتی اور وہاں بندوں کا بنانا ہو تو یوں بڑی فراخدلی کے ساتھ زمین دے دیتے ہیں۔نائیجیریا کے شمال سے ایک گورنر اور وزیرلیگوس میں کیبنٹ میٹنگ attend کرنے کے لئے آئے۔نائیجیریا کا شمال مسلمانوں کا علاقے ہونے کی وجہ سے مسلم نارتھ کہلاتا ہے۔چنانچہ یہ گورنر صاحب خود بھی مسلمان تھے۔انہوں نے لیگوس ایر پورٹ پر صحافیوں کے سامنے یہ اعلان کیا کہ میرا علاقہ تعلیم میں بہت پسماندہ ہے اور میں نے اس سلسلہ میں emergency declare کر دی ہے یعنی تعلیمی محاذ پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے اور جہاں تک مسئلہ تعلیم کا تعلق ہے اسے ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور میں یہ امید رکھتا ہوں کہ عوام میرے ساتھ تعاون کریں گے۔