خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 515
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب ނ توفیق دے رہا ہے کہ وہ ایک سال میں اس سے دگنا کام کرے۔سیرالیون میں چار ہیلتھ سنٹر ز منظور ہو چکے ہیں۔یعنی جورو، بواچے بوہ، روکر یو راور فری ٹاؤن میں۔ایک پانچویں کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں۔ویسے وہاں بعض نام ہیں میلوں کے نام پر۔فری ٹاؤن سے جو راستہ بو کی طرف جاتا ہے اس پر ایک جگہ ہے ۴۷ میل اس کا نام ہے یعنی وہ جگہ فری ٹاؤن سے ۴۷ میل کے فاصلے پر ہے اور اس کا نام بی ۴۷ میل ہے۔وہاں بھی ہماری جماعت اور ایک چھوٹا سا سکول ہے ایک جگہ کا نام شاید چورانوے میل ہے وہاں بھی ہمارا ایک سکول ہے۔وہاں سے لڑکے آئے ہوئے تھے۔ان میں سے ایک جگہ پر تو چھوٹی بچیاں بھی آئی ہوئی تھیں۔پانچ چھ سال کی بچیوں سے مصافحہ کرنے کی تو کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن میں عام طور پر بچتا ہوں اور یہ کہا کرتا ہوں کہ بڑے ہو کر اگر تم نے یہ کہا کہ میں نے مہدی معہود کے تیسرے خلیفہ۔مصافحہ کیا تھا۔تو کسی نے تم سے یہ نہیں پوچھنا کہ اس وقت تمہاری عمر کیا تھی ؟ تو غلط نہی پیدا ہو جائے گی اس لئے میں احتیاط بچتا ہوں۔غرض وہاں پرائمری سکول کے چھوٹے چھوٹے لڑکے اور لڑکیاں آئی ہوئی تھیں۔سٹرک پر مجھے ملنے کے لئے جمع تھیں۔مجھے مبلغ صاحب کہنے لگے کہ موٹر چلتی رہے گی آپ انہیں سلام کر دیں ان کے لئے کافی ہوگا۔میں نے کہا ان کے لئے کافی ہوگا میرے لئے کافی نہیں ہے میں تو موٹر سے اتروں گا۔خیر میں موٹر سے اترا۔وہاں چھوٹی بچیاں بھی تھیں اور بچے بھی تھے میں ایک چکر لگا کر لڑکوں کی طرف آیا اور لڑکوں نے مجھ سے مصافحے کرنے شروع کئے شاید ایک لمحہ کے لئے میری نظر اپنی کار کی طرف گئی یا کسی اور چیز کی طرف گئی (جواب مجھے یاد نہیں رہا ) تو میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا ہاتھ ہے جس نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا ہے اور وہ چھوڑ ہی نہیں رہا ہر دوسرا مصافحہ اس کے او پر ہورہا ہے وہ تین مصافحے اس عرصہ میں ہو گئے مگر اس ہاتھ نے میرا ہاتھ تو نہیں چھوڑا۔اگلا جو آیا اس نے دونوں ہاتھوں پر مصافحہ کیا میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک چھوٹی بچی۔مجھے یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس میں زور بڑا تھا۔اس نے سارے مصافحے ہم دونوں کے ہاتھوں پر کروائے بڑی مشکل سے ہاتھ چھڑوایا۔غرض وہ بڑا پیار کرنے والے تھے۔میں نے بتایا تھا ایک جگہ یہ بھی نظارہ ہوا۔وہاں مصافحے نہیں کرتے تھے پروگرام کچھ ایسا تنگ بنایا ہوا تھا مجھے تکلیف بھی بڑی تھی لیکن کوئی