خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 513 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 513

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱۳ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب کوئی سکول نہیں تھا اس لئے مسلمانوں کے علاقوں میں عیسائی گھس گئے اور انہوں نے مسلمان بچیوں کو عیسائی بنانا شروع کر دیا۔یہ دیکھ کر مجھے بڑا دکھ ہوتا تھا۔میں نے اپنے مبلغوں کو کہا تھا کہ مسلم نارتھ یعنی جو مسلمانوں کا شمالی علاقہ ہے وہاں بعض جگہیں تو ایسی ہیں جہاں ننانوے فیصد مسلمان ہیں اور تعلیم میں پیچھے ہیں وہاں لڑکیوں کے سکول کھولنے کی طرف توجہ کریں۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور غانا کے شمال میں وا کا علاقہ ہے وہاں ہماری جماعتیں بھی بڑی ہیں۔وہاں نصرت جہاں گرلز اکیڈمی وا کے نام سے ہمارا ایک سکول کھل گیا ہے۔غانا کی حکومت نے ہماری کافی مخالفت کی لیکن مخالفت متعصبانہ نہیں۔وہاں کی حکومتیں عقلی دلیل ضرور نکال لیا کرتی ہیں۔انہوں نے انگریز سے ٹرینینگ لی ہوئی ہے۔بہر حال وہ کہنے لگے کہ کئی سال ہوئے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ لڑکیاں سکول میں داخل ہوں مگر چار پانچ سے زیادہ داخل نہیں ہوئیں۔ہم تمہیں خواہ مخواہ اجازت دے دیں۔تمہیں تکلیف ہوگی۔وہ ہم پر الٹا احسان جتارہے تھے کہ پیسے خرچ کرو گے لڑکی کوئی نہیں آئے گی۔چنانچہ ہم نے بڑی مشکل سے ان کو یہ باور کرایا کہ ہم اپنے پیسے ضائع کرنے کے لئے تیار ہیں۔تمہیں کیا ہے؟ پیسے ہمارے ضائع ہوں گے۔تم ہمیں اجازت دے دو۔چنانچہ اجازت مل گئی تو پہلے سال کے پہلے داخلے میں ( جو اُن کے کئی سالوں میں چار پانچ تک پہنچا تھا ) دس لڑکیاں منتخب ہو کر داخل ہوئیں۔نصرت جہاں آگے بڑھو کے منصوبہ کے ماتحت غانا میں ایک دوسر الڑکوں کا سکول بھی کھولا جا چکا ہے۔اس میں لڑکیوں کے لئے بھی پہلی کلاس ہے چھوٹی بچیاں ہیں اور پہلی کلاس ہے ان کو پڑھانے کے لے میاں بیوی کوالیفائیڈ ٹیچر ز جو اہل ہیں وہ یہاں سے چلے گئے ہیں اور وہ وہاں کام کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے پیسے بھی دیئے آدمی بھی دیئے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے میاں بیوی استاد تیار کر کے رکھے ہوئے تھے کہ جو دونوں استاد بننے کے اہل ہوں۔ہمیں کیا پتہ تھا کہ ضرورت پڑے گی۔جب ضرورت پڑی تو اللہ میاں بنی بنائی چیز سامنے لے آیا کہ یہ لو مجھے تو پتہ تھا اور یہاں بھی جو دوسرا لڑکوں کا سکول ہے وہاں بیوی پڑھی ہوئی کی ضرورت نہیں تھی وہاں مرد چلا گیا ہے۔غرض یہ دو سکول فوری طور پر تھوڑے سے عرصہ میں کھل گئے ہیں۔