خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 498
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۹۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۷۰ء۔اختتامی خطاب پکڑ کرا تارکر پھینک دیا۔جس طرح جرابوں پر لیبل لگے ہوئے ہوتے ہیں آپ لیبل ساتھ لگا رہنے دیتے ہیں؟ نہیں، پہنے سے پہلے آپ لیبل اتار کر پھینک دیتے ہیں۔اسی طرح لیبل اتار دیا تو مسلمان بن گئے۔لیکن ہو سکتا ہے بعض پکے بھی ہوں۔تا ہم اول تو وہ تعداد میں زیادہ نہیں دوسرے ان کے متعلق بھی مجھے تو حسن ظن ہے۔میں انہیں احمق تو نہیں سمجھتا کہ اگر ان کو پوری طرح سمجھایا جائے اور وہ نہ سمجھیں۔غرض یہ ہتھیار ایک اور وسیلہ اور ذریعہ ہے۔اب دُنیا کی کوئی عقل اور کوئی قوم اور کوئی ملک اور کوئی زمانہ اور کوئی نسل یہ نہیں کہ سکتی کہ یہ تعلیم کہ ہر شخص کی قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کمال تک ہونی چاہئے یہ ایک ایسی تعلیم ہے جو ہمارے دلوں کو جیتے گی نہیں بلکہ اسلام کے خلاف اور زیادہ نفرت پیدا کر دے گی۔کوئی عقلمند یہ نہیں کہے گا۔یہ ایک بڑا از بردست ہتھیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے۔اسی طرح خدمت ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: (۱۱) تم بہترین امت ہو۔نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت اپنے حسن میں اور نہ اپنی خوبی میں اور نہ اپنے احسان میں تمہارے برابر ہے نہ کوئی اور امت - حضرت آدم علیہ السلام سے لے کہنے والے کہتے ہیں کہ ) ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ہیں تو ان میں سے ہیں تمہیں ہزار شرعی پیغمبر ہوں گے ہی۔غرض اتنی امتیں بن گئیں اتنی ان کی شریعتیں بن گئیں کوئی شریعت کسی پیغمبر کے ماننے والوں کی اور کوئی کسی پیغمبر کے ماننے والوں کی لیکن ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے مقابلے میں ، امت محمدیہ کے مقابلے میں خیر نہیں ہیں۔بہتر نہیں ہیں زیادہ حسین نہیں ہیں۔زیادہ احسان کرنے کی قوت رکھنے والے نہیں ہیں۔( یہ دوسرا فقرہ تو میں جلدی میں کہہ گیا ہوں) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اس لئے بہترین امت ہو کہ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم لوگوں کی بھلائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو یہ حسن تم میں اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ دُنیا اس حسن کے نتیجہ میں احسان کے عظیم جلوے دیکھے۔فرمایا: اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تمہارا اپنا وجود ہی کوئی نہیں رہا۔اب اگر دُنیا ملت واحدہ بن جائے گی تو امریکہ والے روس کی خدمت کر رہے ہوں گے روس چین کی خدمت کر رہا ہو گا۔یہ سارے فساداورلڑائیوں کے خطرے اور ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم کے نتیجہ میں انسانیت کی تباہی