خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 417 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 417

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۱۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب میں تو اس یقین پر قائم ہوں کہ کوئی چیز قرآن کریم سے باہر ایسی نہیں جس کی قرآن کریم کی تکمیل اور اتمام کے لئے ضرورت ہو قرآن کریم تو مکمل اور تم ہو گیا۔اب کسی اور چیز کی قرآن کریم کو ضرورت نہیں۔چونکہ میں اس قرآن کریم کو ماننے والا ہوں اس لئے نہ میں سوشلزم کے حق میں ہوں نہ میں اشتراکیت کے حق میں ہوں۔نہ میں سرمایہ داری کے حق میں ہوں، نہ میں فاشزم کے حق میں ہوں۔میں تو خدا اس کے رسول اس کی کتاب اس کے دین اسلام اور اس کے بندے (انسانیت) کے حق میں ہوں۔اسلام نے ہمیں بیر نہیں سکھایا بلکہ اس نے ہمیں ہر ایک سے اس قدر شفقت ہمدردی اور غم خواری سکھائی کہ اس سے زیادہ شفقت ہمدردی اور غم خواری کوئی اور ازم انسان کو نہیں سکھا سکتا۔پس قرآن کریم کا بعد میں آنے والوں پر عظیم احسان ہے کہ ہر چیز جو قابل بیان تھی یعنی جس کی انسان کو ضرورت تھی وہ اس میں بیان کر دی گئی ہے۔وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ (النحل : ٩٠) ہر ضروری ہدایت اور صداقت قرآن کریم میں بیان ہو گئی ہے اس لئے تمہیں کسی صداقت اور کسی ہدایت اور شریعت کے کسی حکم کو حاصل کرنے کے لئے کسی اور جگہ جانے کی ضرورت نہیں۔سارا کچھ قرآن کریم میں ہے۔جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا ( در متین صفحہ ۹) دوسرے یہ کہ کوئی ایسی چیز جس کی ہمیں ضرورت تھی وہ بیان ہونے سے رہ نہیں گئی یعنی دونوں طرف سے اس کو محفوظ کر لیا ہے جیسے فرمایا مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ (الانعام: ٣٩) اس آیت میں اصل مضمون یہ بیان ہوا ہے کہ بنی نوع انسان کی قوتوں اور استعدادوں کی کامل اور حقیقی اور صحیح نشو و نما کے لئے جن ہدایتوں اور احکام کی ضرورت تھی ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس کے لئے قرآن کریم سے باہر تلاش کرنے کی ضرورت پیش آئے۔ہر قسم کی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ قرآن کریم میں موجود ہے دنیا کی جو الجھنیں ہیں ان پر بھی اصولی طور پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یہ بھی قرآن کریم کا بڑا احسان ہے کہ قوم قوم اور حالات حالات میں فرق ہے۔کوئی ریجید ٹی (Rigidity) اور سختی نہیں بلکہ اصول بتا دیئے اور کہا ان اصولوں کی روشنی میں اپنے حالات کے مطابق جو احسن ہے اس کی پیروی کرو۔