خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 405
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴۰۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب رہا ہے۔یعنی جس رنگ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل بنی نوع انسان کو مختلف قسم کے فیوض حاصل ہو رہے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کے دئے گئے علم سے میں نے نوٹ لینے شروع کئے تو میرا خیال تھا کہ کوئی تمیں باتیں بنیں گی اور میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ یہ عجیب تجربہ مجھے ہوا کہ جلسہ سالانہ سے چند روز پہلے مجھے انفلوئنزا کی تکلیف ہوگئی اور میرا سر جیسا کہ انفلوئنزا میں ہوتا ہے بالکل بند ہو گیا اور جسم میں درد اور بخار بھی تھا۔بہر حال میں سوچنے کے قابل نہیں رہا تھا اور مجھے بڑی فکر پیدا ہوئی کہ جلسہ قریب آ رہا ہے اور جلسہ کے دنوں میں خطبہ جمعہ سمیت پانچ مضمون ہیں جو بیان کرتے ہیں۔کیا ہوگا لیکن اب میری طبیعت ایسی ہے کہ میں دعا کرتا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ سے کہہ دیا کرتا ہوں کہ میں تو ایک تیرا حقیر بندہ ہوں تو مجھے علم نہیں دے گا تو میں بات نہیں کروں گا۔میں کھڑے ہو کر کہہ دوں گا کہ میرے پاس تمہارے لئے کچھ نہیں لیکن وہ سکھاتا ہے اور بڑی عجیب طرح سکھاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے جلسہ سالانہ سے چند دن قبل میں بیمار تھا بیماری کے اثر میں ہی میں نے محسوس کیا کہ کوئی بھیولی سا میرے دماغ میں چکر لگا رہا ہے اور کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ ہے کیا۔کبھی مجھے خیال ہوتا تھا کہ یہ شاید بیماری ہی کا کوئی حصہ ہے، کوئی تکلیف ہے۔اور کبھی خیال ہوتا کہ نہیں یہ تو کوئی غیر معلوم علم ہے جو چکر لگا رہا ہے اور اس کا مجھے پتہ نہیں لگتا۔اس سے ایک امید بھی بندھی اور بے چینی بھی ہوئی یعنی ایک چیز ہے جس کا پتہ نہیں لگتا جیسے پس پردہ حرکت ہو رہی ہو یا کوئی آواز آرہی ہو اور جس طرح قرآن کریم نے آسمانوں کے متعلق کہا ہے كَانَتَا رَتْقًا ( الانبياء : ۳۱) میں نے سمجھا کہ اس سے ملتی جلتی کوئی کیفیت ہے اور فَفَتَقْهُما جس طرح وہاں ہوا کہ ایک دن اچانک ایک سیکنڈ کے اندر وہ فتق ہو گیا اس طرح اس ہیولے نے بھی ایک معین شکل اختیار کر لی اور وہ یہ مضمون تھا جو میں نے ابھی آگے بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ختم نبوت ہے اور آپ کی جو حقیقت محمدیہ ہے اس کو اس عملی دنیا میں جس میں ہم دن رات گزار رہے ہیں کس طرح مثالوں سے اور حقائق سے واضح کیا جاسکتا ہے۔غرض میں نے نوٹ لکھوانے شروع کئے مضمون تو اللہ تعالیٰ نے دماغ میں ڈال دیا تھا لیکن بہر حال حوالے دیکھنے پڑتے ہیں اور اس میں کچھ وقت لگتا ہے ضرورت ہوتی ہے کہ قرآن کریم کی