خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 397
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۷ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب صفات جواس کے اندر پائی جاتی ہیں ان کا امکان ہی باقی نہیں رہتا لیکن اللہ تعالیٰ کی صفات کے یہ جلوے براہ راست اس کا ئنات کو نہیں پہنچ رہے اس پر ظاہر نہیں ہور ہے بلکہ بیچ میں ایک وجود ایسا ہے جو برزخ کے طور پر ہے اور اس کی وساطت سے یہ جلوے کائنات کو پہنچ رہے ہیں اور وہ وجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے اگر یہ وجود درمیان میں نہ ہوتا تو آم کے درخت کو آم بھی نہ لگتے بلکہ آم کا درخت بھی نہ ہوتا اگر وہ جلوہ اسے نہ ملتا۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شریعت کے حصول کی استعداد نہ ملتی۔غرض ایک عام مخلوق سے لے کر انبیاء علیہم السلام تک جو بڑی ہستیاں ہیں ممکن ہی نہیں ہے کہ یہ چیزیں ہوں جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے فیض حاصل کر کے آگے نہ پہنچا ئیں۔آپ کا یہ فیض صرف انسانوں کو نہیں پہنچ رہا بلکہ آپ کا یہ فیض دنیا کی ہر مخلوق کو پہنچ رہا ہے اور اس لئے پہنچ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے ہر چیز جو پیدا کی ہے وہ انسان کے لئے پیدا کی ہے۔وہ انسان کی خدمت کر رہی ہے ہر چیز کو ہم نے انسان کی بہبود کے لئے اور اس کو فائدہ پہنچانے کے لئے مسخر کر دیا ہے۔یہاں بتایا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام وتر کا مقام ہے جو دو قوسوں یعنی قوس الوھیت اور قوس کا ئنات کے درمیان ہے اور ان کے درمیان ایک برزخ کے طور پر ہے اور وتر ہے لیکن حقیقت محمدیہ وہ وتر نہیں ہے بلکہ حقیقت محمدیہ وتر کا وہ درمیانی نقطہ ہے جس کو صوفیاء نے نقطہ محمد یہ بھی کہا ہے اور اس نقطہ سے حقیقت محمد یہ دائیں اور بائیں حرکت کرتی اور دو قوسوں کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے حقیقت محمدیہ اللہ کا مظہر اتم ہے جو تمام صفات حسنہ کا جامع ہے اور اللہ کا یہ مظہر اپنی روحانی حرکت میں سارے وتر پر چلتا ہے اور ساری ہی صفات باری کا وہ مظہر بن جاتا ہے کیونکہ جو اللہ کا مظہر ہے وہ اس کی ساری صفات کا مظہر ہے اور جو اس وجوہ کا مظہر ہے۔جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے ظاہر ہے کہ وہ تمام صفات حسنہ کا مظہر ہے اور اس بات کو بیان کرنے کے لئے اور اس حقیقت کو آشکار کرنے کے لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے مظہر اتم ہیں اور اس وجہ سے آپ اللہ تعالیٰ کی ان تمام تشبیہی صفات کے مظہر اتم ہیں جن کے جلوے ہماری اس دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اور اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے کہ دوسرے بزرگ انبیاء جو پیدا ہوئے اور جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا اور اس کی محبت کو پایا وہ اللہ تعالیٰ کے کامل مظہر نہیں بلکہ ----