خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 395 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 395

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۹۵ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۹ء۔اختتامی خطاب مسیح علیہ السلام بھی خدا کے ایک بزرگ نبی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک قابل شاگرد تھے وہ اپنے مقام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعتوں کا علم رکھتے تھے۔آپ نے بھی انسان کے کان میں یہ سرگوشی کی کہ میں اپنے آپ کو اس کا مانند شمار نہیں کرتا جس کی نسبت تم کہہ رہے ہو کیونکہ میں اس کے لائق بھی نہیں ہوں کہ اس رسول اللہ کے جوتے کے بند ی نعلین کے تسمے کھولوں۔تم مجھے مسیحا کہتے ہو وہ جو کہ میرے پہلے پیدا کیا گیا اور اب میرے بعد آئے گا اور وہ کلامِ حق کے ساتھ آئے گا اور اس کے دین کی کوئی انتہا نہیں ہوگی۔جتنے انبیاء علیہم السلام گذرے ہیں جب ہم ان کی تاریخ کا اور ان کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ علم دیئے گئے تھے کہ ان کو جو بھی ملا وہ کامل اور مکمل نہیں اور دوسرے یہ کہ انہیں جو بھی ملا وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے ملا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ در حقیقی اور کامل نجات کی راہیں قرآن نے کھولیں اور باقی سب اس کے ظلل تھے“ پھر فرمایا۔کشتی نوح روحانی خزائن جلد نمبر ۹ ۱ صفحه ۲۶) قرآن جو تمام آسمانی کتابوں کا آدم۔۔۔(تحفہ گولڑ و بی روحانی خزائن جلد نمبر ۷ صفحه ۲۵۸) قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ہر ایک نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل ہے ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد نمبر ۲۱ صفحه ۳۰۰) گذشتہ سال میں نے بتایا تھا کہ اگر ہم اولیائے امت کی کتب کا مطالعہ کریں تو وہاں بھی ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ قریباً سارے بزرگ اولیاء نے اس بات کو وضاحت سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت آدم علیہ السلام سے پہلے تھی اور آپ ہی کے فیوض سے سارے انبیاء نے فیض حاصل کیا۔قرآن کریم نے اس حقیقت محمدیہ کو سورۃ النجم کی ان آیات میں بیان کیا ہے جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔اگر چہ یہ مضمون بڑا عمیق ہے اور ہمارے سننے والے ہر قسم کی استطاعت کے مالک ہیں اس لیے میں کوشش کروں گا کہ جس حد تک آسان طریق پر