خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 338

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۳۸ ۲۸ دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب بنائی جائیں وغیرہ وغیرہ۔یہ سارا سوچ کے ہم نے وہ دنیا اس مسجد کی دنیا جو ہے اس کا فیصلہ کیا نا ! عالم قضاء و قدر کے معنے ایک عام آدمی کے سمجھنے کے لئے یہ ہیں کہ فیصلے اور تخمینے کا عالم اتنا رو اس پر خرچ آئے گا پھر ہم نے جیسا بنانا چاہا تھا اس کے مطابق ہم نے لوہا خریدا، سیمنٹ کی گاڑیاں منگوائیں، اینٹیں لیں ، پانی کا انتظام کیا۔اتنے راج لئے ، جتنی shuttring کے لئے لکڑی چاہئے تھی وہ مہیا کی وغیرہ وغیرہ۔یہ ساری چیزیں ایک دنیا بنادی کہ نہ ایک چھوٹی سی دنیا میں جس میں سیمنٹ بھی ہے لکڑی بھی ہے لوہا بھی ہے، بیٹھنے کے لئے سایہ دار درخت بھی ہیں کوئی مہمان آجائے تو اس کو بعض دفعہ بوتلیں بھی پلا دیتے ہیں۔کھانے پینے کا سامان بھی ہے تو ایک چھوٹی سی دنیا ایک معمولی سے انسانوں نے بسائی۔یہ لوہا یہاں کیوں ہے؟ اس لئے کہ ایک مسجد بنی ہے جس میں اتنے ہزار آدمی بیٹھنے ہیں اتنا سیمنٹ یہاں کیوں آیا؟ اس لئے کہ ایک مسجد بنی ہے جس میں اتنے ہزار آدمی بیٹھنے ہیں اتنے مزدور یہاں کیوں لگائے گئے؟ اس لئے کہ ایک مسجد بنی ہے جس میں اتنے ہزار آدمی بیٹھنے ہیں یہاں یہ درخت کیوں لگائے گئے ہیں اس لئے کہ ایک مسجد بنی ہے جس میں مزدوروں نے کام کرنا ہے۔اُن کے سایہ کے لئے ضروری ہیں۔یہاں یہ کنواں کیوں Bore کیا گیا؟ اس لئے کہ ایک مسجد بنی ہے اس کے لئے پانی کی ضرورت ہے ایک دنیا بس گئی نا۔صرف مقصد کے لئے پانی کا اس جگہ وجود، لوہے کا اس جگہ، وجود اس مقصد کے ساتھ ہی وابستہ ہے اگر وہ مقصد نہ ہوتا اگر اسے مثلاً مقصد بدل دیتے ہیں۔اگر اس سے نصف آدمیوں کو نماز پڑھانے کے لئے مسجد بنانی ہوتی تو اتنا لوہا یہاں کبھی نہ آتا اتنا سیمنٹ یہاں کبھی نہ آتا اس سے آدھا ہو جاتا نا ! تو دنیا بدل جاتی تو یہ ہے فیصلے اور تخمینے کا عالم اور موجودات کا انحصار ہی اس عالم قضاء وقد ر پر ہے۔ایک اور مثال میں دیتا ہوں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے سمجھنے کے زیادہ قریب ہے۔ایک سائنسدان نے یہ ایجاد کی کہ ایک ایسا روشن لیمپ تیار کیا جاسکتا ہے جس کی روشنی کا کوئی اور روشنی مقابلہ نہ کر سکے کہ جو خود بخو د روشن ہو جائے جس کے لئے نہ تیل کی ، نہ گیس کی ، نہ بجلی کی ضرورت ہو مثلاً اب اس کا سمجھنا بھی آسان ہے کیونکہ ہم اب بہت ساری چیزیں سورج کی شعاعوں اور روشنی سے حاصل کر لیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جو Saucer پہلے پوری