خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 320 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 320

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۲۰ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب ہوں یا پچھلے ہوں۔جس نے روحانی میدان میں جو برکت بھی حاصل کی وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی حاصل کی اور جو آپ سے دور ہوا۔اس نے ہر قسم کے قُرب کے دروازے اپنے اوپر بند کر لئے۔پس یہ منع اور روک کا مفہوم ہے ) اور یہ اس وجہ سے کہ جب دنیا کی ابتداء بھی ہے اور خاتمہ بھی تو اللہ سبحانہ نے فیصلہ کیا کہ جو کچھ اس میں ہے اس کا آغاز بھی ہو اور انجام بھی (جب مقصد کے لئے ایک انجام اور ایک مقصد کا حصول شروع کر دیا۔آغاز ہو گیا۔بنی نوع انسان کی پیدائش ہو گئی اور پھر اس کا انجام یعنی انسان اپنے کمال کو پہنچ گیا اور اس پر آگے اس پر روشنی اگلا فقرہ ڈال رہا ہے) اور اس دنیا میں شریعتیں بھی نازل کی گئیں آغاز اور انجام کے لئے ) پس ان شرائع کا انتہائی نقطہ شرع محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور آ خاتم النبین تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانے والا ہے اور اس دنیا میں ( جو دراصل کہنا چاہئے خدا کے ظل ہونے کی حیثیت سے جیسا کہ میں آگے تفصیل سے بیان کروں گا کہ اس دنیا میں جو ایک نقطہ علی کی وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا ہے۔اس دنیا میں آپ کا ایک فیضان عام ہے اور ایک فیضان خاص ہے۔یہ محی الدین ابن عربی کہتے ہیں کہ اس دنیا میں ) ولایت عامہ بھی ہے ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ایک ولایت عامہ ہے اور ایک ولایت خاصہ ہے اور انہوں نے یہاں بیان یہ کیا ہے کہ ولایت عامہ کا تعلق آپ کی بعثت اور جسم کا جو وجود ہے اس کے پہلے زمانہ کے ساتھ ہے یعنی حضرت آدم سے لے کر آپ کے زمانہ تک جن لوگوں نے آپ کے فیوض حاصل کئے وہ ولایت عامہ کے نتیجہ میں حاصل کئے۔ان کا بڑا عجیب بیان ہے۔یہ بہت گہرے گئے ہیں اور جو آپ کے بعد آپ کے فیوض حاصل کرنے والے تھے انہوں نے نے ولایت خاصہ کی وجہ سے وہ فیوض حاصل کئے اور میرے نزدیک اس کا فرق یہ ہے کہ ولایت عامہ میں چھوٹے بڑے ہر قسم کے فیوض شامل ہیں وہ عام فیوض ہیں اور چونکہ قرآن کریم ابھی پورا اور کامل نازل نہیں ہوا تھا اس لئے جن انبیاء علیہم السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قبل آپ سے برکتیں حاصل کیں اور آپ کی لائی ہوئی کامل اور مکمل کتاب ہی سے ہدایت لی وہ اس ہدایت کا ایک حصہ تھا۔کسی کو ایک حصہ ملا اور کسی کو دوسر املا کسی کو تھوڑ املا کسی کو بہت ملا مگر ملا قرآن کریم کا ہی حصہ جیسا