خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 309 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 309

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۰۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کیا تم لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اسے تمہاری خدمت پر لگایا ہوا ہے اور اس رنگ میں لگایا ہوا ہے کہ اپنی اس خلق کو تمہاری خدمت پر لگانے کے نتیجہ میں تمہارے لئے جن نعمتوں کے سامان پیدا کر دیے گئے ہیں۔انہیں تم شمار نہیں کر سکتے انہیں تم گنتی میں نہیں لا سکتے۔وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً اور تم پر اپنی نعمتیں ظاہری ہوں یا باطنی پانی کی طرح بہادی ہیں جس طرح سمندر کے پانی کے قطرے نہیں گنے جاسکتے (شائد وہ گنے جائیں لیکن اس سے زیادہ بڑھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں اور اس کے احسانوں کا شمار نہیں ہے۔اس سے تمہیں یہ سبق لینا چاہئے اس سے یہ حقیقت تم پر واضح ہونی چاہئے کہ پیدائش عالم کا مقصد انسان سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس کے باوجو دلوگوں میں سے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارہ میں بات شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا تو خدا ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو اس کو ہمارے ساتھ کیا غرض ؟ اور اس بحث میں ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہوتی ہے وَلَا هُدًى۔نہ صحف سابقہ میں سے کسی آسمانی صحیفے کا اس کے پاس کوئی استدلال ہوتا ہے وَلَا كِتُبِ منیر اور نہ قرآن کریم سے کوئی استدلال وہ ایسا کر سکتے ہیں۔تو عقل ، پہلی کتا بیں جو ان میں سے سچائیاں قائم رہ گئی ہیں اور دنیا کو روشن کرنے کے لئے جو کتاب منیر قرآن کریم میں نازل ہوئی ہے ان میں سے کوئی پختہ دلیل نکال کر وہ اپنے موقف کی تائید میں بیان نہیں کر سکتے اور اس بات سے وہ انکار کرتے ہیں کہ یہ دنیا کسی مقصد کے پیش نظر پیدا کی گئی ہے اور آخرت پر جو شخص ایمان نہیں لاتا ( اور دنیا میں ایسے انسانوں کی بڑی کثرت ہے ) اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پیدائش انسانی کی کوئی غرض نہیں ساری دنیا کو ، کائنات کو ، موجودات کو جو پیدا کیا گیا؟ ہے یہ بے مقصد ہے انسان اس دنیا میں آیا ہے اور مر جائے گا اور ختم ہو جائے گا یہ قصہ ہے۔اسی طرح سورہ جاثیہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللهِ لِيَجْزِى قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ : مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ثُمَّ إِلى رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ (المائية : ۱۴ تا ۱۶) ۚ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اُس نے تمہاری خدمت پر لگا