خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 308
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۳۰۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب لحاظ سے بھی بے فائدہ اور بلا مقصد نہیں ہے، کوئی بات میرے سامنے تھی ، کوئی مقصد میرے پیش نظر تھا جس کے لئے میں نے اس کارخانہ عالم کو بنایا۔دوسری صداقت جو قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ پیدائش عالمین کا جو بھی مقصد ہے اس کا تعلق انسان سے ہے یعنی انسان نے اس مقصد کو پورا کرنا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَكَةِ إِنّى جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة: ٣١) کہ اللہ تعالیٰ نے پیدائش عالم کے وقت ملائکہ سے یہ کہا کہ میں ایک ایسی نوع پیدا کرنے لگا ہوں جو میرے خلیفہ اور میرے نائب ہو کر زندگی گزاریں گے۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ایک ایسی نسل ، ایسی نوع انسانی پیدا کرنے لگا ہوں جن میں یہ استعداد اور قوت رکھی جائے گی کہ وہ میری صفات کا مظہر بن سکیں کوئی خلیفہ اور نائب ایسا نہیں جو اس کی صفات کا مظہر نہ بنے۔تو اس آیت میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ زمین اور آسمان اور جو اس کے درمیان ہے اس کی پیدائش کا مقصد انسان سے تعلق رکھتا ہے اور انسان کو یہ کہا کہ تم غور کرو کہ اگر پیدائش عالمین کا مقصد تم سے تعلق نہ رکھتا تو پیدائش کی ہر چیز کو تمہاری خدمت میں نہ لگایا جاتا۔اگر وہ مقصد جو اس عالمین کی پیدائش کا ہے مثلاً ہمارے سورج سے تعلق رکھتا تو ہم غلاموں کی طرح اس سورج کی خدمت کر رہے ہوتے جس طرح خدا چاہتا کہ ہم خدمت کریں لیکن ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ نہ صرف یہ سورج بلکہ دنیا میں جو بے شمار سورج پائے جاتے ہیں سارے کے سارے انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اور نہ صرف یہ عالمین بلکہ جو ان کا سہارا ہیں یعنی ملائکہ اور ان کی قوتیں وہ بھی انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے بار بار اس طرف متوجہ کیا کہ ہم نے جس چیز کو بھی پیدا کیا تمہاری خدمت میں لگا دیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔أَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَبٍ مُّنِيرٍ (لقمن: ٢١)