خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 20 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 20

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطاب ان تین تنظیموں یعنی صدرانجمن احمد یہ تحریک جدید اور وقف جدید کے علاوہ حضرت مصلح موعود نے جماعت میں کچھ ذیلی تنظیمیں بھی قائم کی ہیں اور وہ ذیلی تنظیمیں مجلس انصار اللہ مجلس خدام الاحمدیہ، مجلس اطفال الاحمدیہ ، لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ ہیں۔ان ذیلی تنظیموں کے سپر د جو کام حضرت مصلح موعودؓ نے کئے وہ اصولاً تین قسم کے ہیں بعض کام جماعتی تنظیموں کے رضا کار کے طور پران کے سپرد کئے گئے تھے کیونکہ وہ کام ان کے اپنے نہیں تھے بلکہ وہ کام جماعتی تنظیموں کے تھے اور ان ذیلی تنظیموں سے کہا گیا تھا کہ وہ رضا کار کے طور پر وہ کام کریں۔پھر بعض کام ایسے تھے جو ان کے سپر د جماعتی نظام کے رضا کار کے طور پر کئے گئے تھے۔وہ کام نہ ان کے اپنے تھے اور نہ صدرانجمن احمد یہ تحریک جدید اور وقف جدید کے تھے بلکہ وہ جماعتی نظام سے تعلق رکھتے تھے جو صدرانجمن احد یہ تحریک جدید اور وقف جدید کے مجموعہ کا نام ہے اور جس کی نگرانی خلیفہ وقت کے سپرد ہے اور کچھ کام بطور نوافل کے خود ان کے سپرد کئے گئے تھے وہ ان کے اپنے کام تھے میں ان تنظیموں سے کہوں گا کہ جو کام ان کے سپر د جماعتی تنظیموں یا جماعتی نظام کے رضا کار کے طور پر سپرد کئے گئے ہیں ان کو بجالانے میں وہ بہترین رضا کا رثابت ہوں مثلاً تربیت کا کام ہے وہ جماعتی نظام کے رضا کار کے طور پر خدام الاحمدیہ کے سپرد ہے اور خلیفہ وقت کی براہ راست نگرانی میں ہے ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ احمدی نوجوانوں میں تذلل اور تواضع کا جذبہ اُبھار کر اُسے ان کا شعار بنادیں گے۔حضرت مصلح موعودؓ نے بہت سے چھوٹے چھوٹے فقرے خدام الاحمدیہ کو دیئے ہیں جو ؟ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں اور قیامت تک ہماری راہ نمائی کا موجب ہیں۔آج میں مجلس خدام الاحمدیہ کو ان پہلے فقرات کے علاوہ جو ماٹو اور سمح نظر کے طور پر ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ایک زائد ماٹو اور صح نظر کے طور پر دیتا ہوں اور وہ نہایت ہی پیارا الہام یہ ہے۔66 تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں۔“ ( تذکرہ نیا ایڈیشن صفحه ۵۹۵) اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مخاطب کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے انکسار اور تذلل پر پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔خدام الاحمدیہ کو بھی عجز وانکسار تذلیل اور تواضع کا ایک نمونہ