خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 261

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۱ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب اس کے فضل اور اس کی برکت کی وسعتوں کا تصور بھی ہمارے دماغ نہیں کر سکتے۔اے ہمارے ربّ! تو ہر نقص سے پاک ہے۔پیدائش عالم بے فائدہ اور بے مقصد نہیں۔اے ہمارے رب! ہماری زندگی کو بے مقصد بننے سے بچالے اور اپنے غضب کی آگ سے تو اپنی پناہ میں لے لے۔اے ہمارے رب ! تیرے نام پر ایک پکارنے والے نے ہمیں پکارا اور تیری رضا کے حصول کے لئے ہم نے اس کو قبول کیا ، اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر تیرے نام کی عظمت اور کبریائی کے لئے ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہی کس حد تک ہم نے اس عہد بیعت کو نباہا۔تو ہی بہتر جانتا ہے ہم کمزوریوں کے پتلے ہیں، ہماری عاجزانہ پکار کوسن اور ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بدیاں ہم سے مٹادے اور ہمیں اس گروہ میں شامل کر جو تیری نگاہ میں نیک اور پاک ہے اور اے ہمارے رب ! اے سر چشمہ عنایات بے پایاں !! تیری طرف سے آنے والی ہر خیر کے ہم بھوکے اور فقیر ہیں۔اے ہمارے رب ! ہمیں وہ سب کچھ دے جس کا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا ہے اور جب جزا کا دن آئے تو ہم تیری نظروں میں ذلیل نہ ٹھہر ہیں۔دیکھنے والے دیکھیں اور سمجھنے والے کہ جو تیری راہ میں دکھ اُٹھاتے اور سختیاں جھیلتے ہیں اور جن کو ذلیل کرنے اور ہلاک کرنے میں دنیا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتی وہی تیرے پیار کو پاتے ہیں اور عباد الله المكرون میں شامل کئے جاتے ہیں۔ہم نے کوشش کی کہ ہم تیرے لئے اپنے نفسوں کی خواہشات اور ماحول کی کشش اور دُنیا کی زینت سے کنارہ کش ہو جائیں اور ہم تیری راہ میں ستائے گئے اور ذلیل کئے گئے اور ہم نے تیری راہ میں رسوائیاں اٹھائیں اور ماریں کھائیں اور جائیداد میں لٹوا ئیں۔لیکن ہلاکت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم نے محبت کے اُس شعلہ کو اور بھی روشن کیا جو تیرے لئے ہمارے دلوں میں موجزن ہے لیکن یہ تو ہماری سمجھ ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہماری سمجھ کا قصور ہو۔ہم تیرے خوف سے لرزاں ہیں ہماری روح تیرے جلال سے کانپ رہی ہے، تیری عظمت اور کبریائی نے ہمارے درخت وجود کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔اے ہمارے رب ! ہماری کمزوریوں سستیوں ،غفلتوں کو تا ہیوں ، خطاؤں اور گناہوں نے ہماری نیکیوں کو دبا دیا ہے۔مغفرت ! مغفرت !! اے رپ غفور ! مغفرت کی چادر تلے ہمیں چھپالے، ہمارے ہاتھ نیکیوں کے پھول اور اعمال صالحہ کے ہار تیرے قدموں پر نچھاور کرنے کے لئے نہیں لا سکے۔تہی دست تیرے