خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 262 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 262

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۲ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۶۸ء۔افتتاحی خطاب قدموں پر گرتے ہیں اور تیری رحمت کی بھیک مانگتے ہیں۔اے ہمارے رحمان ! ان تہی ہاتھوں کو اپنی رحمت سے یدِ بیضا کر دے۔تیرا جمال اور محمد کا حسن دُنیا پر چمکے اور اسے روشن کرے۔ان تہی ہاتھوں کو اپنے دست قدرت میں پکڑ تیرا جلال اور محمد کی عظمت دنیا پر ظاہر ہو۔اسلام اور محمد کے مغرور دشمن کا سرنگوں اور شرمندہ کر دے۔! اے ہمارے ربّ! ہماری بھول چوک پر ہمیں گرفت نہ کرنا اور ہماری خطاؤں سے درگزر کرنا ، ہم عاجز اور کمزور بندے ہیں مگر ہیں تو تیرے ہی بندے۔اے ہمارے رب ! کبھی ایسا نہ ہو اور کہ ہم عہد شکن ہو کر ثواب کے کاموں سے محروم ہو جائیں اور عہد شکنی کی سزا تیری طرف سے ہمیں ملے۔اے ہمارے محبوب !ہم ہمیشہ اپنے عہد پر قائم رہنے کی تجھ سے توفیق حاصل کرتے رہیں اور ہمیشہ تیری ہی رضا ہمارے شامل حال رہے اور تیرے انعامات بے پایاں کا جو سلسلہ اسلام میں جاری ہوا ہے اس کا تسلسل کبھی نہ ٹوٹے۔اے ہمارے رب ! اپنے قہر کی گرفت سے ہمیں محفوظ رکھیو۔تیرے غصہ کی ہمیں برداشت نہیں۔تیری گرفت شدید ہے کچل کر رکھ دیتی اور ہلاک کر دیتی ہے۔ہم عاصی ہیں ہمیں معاف فرما۔ہم سے گناہ پر گناہ ہوا۔کوتا ہی پر کوتا ہی ، اپنی رحمت کی وسیع چادر ہماری سب کمزوریوں کو چھپا لے ہمیں اپنی رحمتوں سے ہمیشہ نو از تارہ تو ہمارا محبوب آقا تیرے دامن کو ہم نے پکڑا۔دامن جھٹک کے ہمیں پرے نہ پھینک دینا ہماری پکار کوشن اور اسلام کے ناشکرے منکروں کے خلاف ہماری مدد کو آ اور ان کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ۔اے ہمارے رب ! تیری راہ میں جو بھی سختیاں اور آزمائشیں ہم پر آئیں ان کے برداشت کی قوت اور طاقت ہمیں بخش اور سختیوں اور آزمائشوں کے میدان میں ہمیں ثبات قدم عطا کر ، ہمارے پاؤں میں لغزش نہ آئے اور اپنے اور اسلام۔دشمن کے خلاف ہماری مدد کر اور ہماری کامیابیوں کے سامان تو خود اپنے فضل سے پیدا کر دے۔اب ہم دعا کر لیتے ہیں اور دعا کے ساتھ اس جلسہ کا افتتاح ہو جائے گا۔روزنامه الفضل ربوه ۱۲ / جنوری ۱۹۶۹ ء صفحه ۳۲)