خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 13

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطاب اس غرض کے لئے جماعت کے خزانہ میں داخل کراتے ہیں اور جو لوگ بالقوه موصی ہوتے ہیں بالفعل نہیں اُن کے لئے ہماری دُعائیں اور کوششیں ہمیشہ یہی ہوتی ہیں کہ وہ موصی بن جائیں اور دین کی خاطر زیادہ سے زیادہ مالی قربانی کریں لیکن جب تک وہ بالفعل موصی نہیں بنتے انہیں اپنی آمد کا ۱۶/ ا حصہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے دینا پڑتا ہے۔اس نظام کو چلانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے صدر انجمن احمدیہ کا ادارہ قائم کیا تھا جس کے متعلق جماعت کا ایک حصہ یہ سمجھا کہ شاید ہمارے لئے سب کچھ صدر انجمن احمد یہ ہی ہے۔انہوں نے جو غلطی کی اس کو واضح کرنے کے لئے ہمیں کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔بلکہ صرف اُس حصہ جماعت کو دیکھ لینے اور اس کے متعلق کسی قدر علم حاصل کر لینے کی ضرورت ہے خلافت ثانیہ کے قیام کے بعد جماعت کا ایک حصہ یہ سمجھتا تھا کہ جماعت کے سارے اکابریا ان کا اکثر حصہ ہمارے ساتھ ہے اور ایک حصہ یہ مشاہدہ کر رہا تھا کہ گود نیوی طاقت اور قوت کے سامان ہمارے پاس نہیں لیکن خدا کا خلیفہ ہمارے پاس ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جس حصہ جماعت کے پاس خدا تعالیٰ کا خلیفہ تھا وہ ترقی کرتا کرتا کہیں سے کہیں نکل گیا ہے اور جس کے پاس جماعت کے اکابریا ان کا اکثر حصہ تھا وہ تنزل کرتے کرتے کہیں سے کہیں تک گر گیا ہے۔اس کے بعد کسی مزید دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔بہر حال صدرانجمن احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ( جب تک آپ زندہ تھے ) اپنی نگرانی میں اور بعد میں اپنے خلفاء کی نگرانی میں کام کرنے کے لئے قائم کیا اور اس صد را مجمن احمدیہ کے سپر د جماعت کے کاموں میں سے ایک بڑا حصہ ہے لیکن میں جب بھی سوچتا ہوں تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ جو کام اس کے سپر د کیا گیا ہے۔اس کا بجالا نا تو کیا ؟ یہ لوگ اس کے متعلق سوچتے بھی نہیں اور اپنے دماغوں میں اس کا خیال بھی نہیں لاتے۔آپ جانتے ہیں کہ ایک ملک کو سنبھالنا کتنا مشکل کام ہے۔پھر ایک ایسی جماعت کا سنبھالنا جو دنیا کے متعددممالک میں پھیلی ہوئی ہے کس قدر مشکل ہے۔ابھی کچھ دن ہوئے پاکستان میں ہنگامی حالات پیدا ہو گئے اور اس کا اثر ہماری زندگی کے ہر شعبہ پر پڑا۔ملک کو اپنے زرمبادلہ کو اپنے مخصوص راستوں سے ہٹا کر اپنے دفاع کی طرف پھیرنا پڑا۔جس کی وجہ سے ہماری زراعت پر بھی اس کا اثر پڑا۔مثلاً سرگودھا کے علاقہ کو ہی ---