خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 193

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۳ ۱۲ جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب سینکڑوں کی تعداد میں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں بچوں کو قاعدہ میسر نا القرآن، قرآن کریم ناظرہ یا ترجمہ کے ساتھ یا مختصر سی تفسیر کے ساتھ ان واقفین نے پڑھایا ہے۔اگر ہم اس کام کو تنخواہ یا معاوضہ حاصل کرنے والے لوگوں سے لیتے تو میں سمجھتا ہوں کہ عملاً دوسو نہیں بلکہ چار سو آدمی چاہئے تھے کیونکہ جو شخص مستقل ملازمت پر ہو یا کام پر ہو اس کا کام اور قسم کا ہوتا ہے اور جو پندرہ دن کے لئے وقف کر کے جائے وہ چوبیس گھنٹے اپنے آپ کو اعتکاف میں یعنی بندھا ہوا اس کام میں سمجھتا ہے اور دن رات ایک کر دیتا ہے اور بہت زیادہ کام کرتا ہے۔اکثر واقفین نے اسی رنگ میں کام کیا ہے۔ہاں بعض لوگ نا تجربہ کاری کی وجہ سے سستی بھی دکھاتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں۔لیکن اکثریت ایسوں کی ہے جنہوں نے سمجھا کہ چوبیس گھنٹے ہمارے وقف ہیں ایک دو دن میں کیا فرق پڑتا ہے مزدوری ہم کوئی نہیں لیتے آرام نہیں کرتے کھانا اپنا آپ پکاتے ہیں اور پھر وہ بھی سادہ اور مختصر سا کئی دوستوں نے یہ بھی کیا ہے کہ بازار سے دودھ لے آئے اور اس میں رس ڈبو کر کھا لئے۔پندرہ دن میں کوئی ایسی تکلیف بھی نہیں ہوتی۔کھانے کی عادت نہیں ہونی چاہئے جس قوم نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے اس کو ہر قسم کی عادت سے آزاد رہنا چاہئے اور روٹی کی بھی عادت ہوتی ہے دیکھو ہم لوگ روٹی کھاتے ہیں۔اگر کسی کو تین دن برابر چاول کھلائیں تو وہ شور مچادے گا۔بنگال میں چاول کھانے کی عادت ہے وہاں کوئی بیمار ہو جائے تو کہتے ہیں اسے پر ہیزی کھانا دو یعنی روٹی پکا کر دو اور ہم بیمار ہو جائیں تو کہتے ہیں ہم بیمار ہو گئے ہیں۔ہمیں چاول پکا کر دو۔غرض روٹی کھانے کی بھی عادت نہیں ہونی چاہئے اور پھر روٹی کے ساتھ کسی خاص قسم کے سالن کی عادت بھی نہیں ہونی چاہئے۔صرف ضرورت پوری کرنے کی عادت ہونی چاہئے۔اسے آپ عادت کہہ لیں یا جو مرضی ہے کہہ لیں۔بہر حال جسم کی ضرورت پوری ہونی چاہئے وہ ضرورت روٹی سے پوری ہو یا چاول سے ہو یا دال سے ہو، فاختہ کے گوشت سے ہو یا بکرے کے گوشت سے ہو یا اونٹ کے گوشت سے ہو یا آلو سے ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اللہ تعالیٰ نے ایک ضرورت لگائی ہے اور وہ ہم نے پوری کرنی ہے اور جسم کو اتنا کھا لینے کو دے دینا چاہئے کہ وہ اپنے پر چربی نہ چڑھائے اور صحت قائم رہے اور یہ بڑا ضروری امر ہے میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔جسم جسم میں بھی فرق ہے میں