خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 194 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 194

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹۴ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطاب نے ایسے آدمی دیکھے ہیں جو بارہ روٹیاں بھی کھا جائیں تو ان کا پیٹ نہیں بھرتا اور ان کے معدے پیٹ کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں۔پتہ نہیں لگتا کہ وہ کھانا جا تا کہاں ہے میرا جسم اس قسم کا ہے کہ کل صبح ایک چھوٹی سی چپاتی کھائی تھی اور عام طور پر گھر میں پکے ہوئے دو پتلے پھلکے کھالیتا ہوں کل چونکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ صرف ایک روٹی کھانی ہے اس لئے میں نے بھی ایک ہی چپاتی کھائی۔تھا تو وہ پر اٹھا لیکن بالکل پھلکے کی طرح کا۔میں کتنا کم کھاؤں میرا جسم اتنا ہی موٹا رہے گا لیکن بعض لوگ کم کھائیں تو وہ دبلے ہو جاتے ہیں اور زیادہ کھائیں تو موٹے ہو جاتے ہیں ور بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ زیادہ بھی کھائیں تو موٹے نہیں ہوتے بلکہ دبلے ہی رہتے ہیں : یہ ایک علیحدہ بات ہے لیکن جسم کی صحت کے لئے جتنی ضرورت غذا کی ہے وہ ضرورت پوری کر لینی چاہئے کیونکہ ہمیں صحت مند جسم چاہئیں تا ان صحت مند جسموں میں صحت مند دماغ اور ہمت والی روح قائم رہ سکے۔بڑا ہی اور بڑا ہی مشکل کام ہے جو ہمارے سپر د کیا گیا ہے۔اگر آپ سوچیں تو یہ کام آسان نہیں جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔یہ بات کہنے کو تو آسان ہے کہ ہم نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے لیکن جب ساری دنیا اور ساری دنیا کی مخالفتیں سامنے ہوں تو انسانی دماغ اسے سوچ کر بھی گھبرا جاتا ہے۔پھر جب انسان سوچتا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہم بے طاقت ہیں ہم میں کوئی علم نہیں اس دنیا کے مقابلہ پر ہم کچھ بھی نہیں لیکن خدا کہتا ہے کہ یہ کام ہوگا اس لئے یہ کام ضرور ہو گا وہ خود ہی اس کام کو کرے گا۔ہم پر صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ ہم میں جتنی طاقت ہے وہ صرف کریں گوہم جانتے ہیں کہ ہماری طاقتوں کا مجموعہ ہے وہ بھی یہ کام نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی ہمیں یہ علم ہے کہ یہ کام ضرور ہوگا۔اگر ہم اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق قربانیاں دے دیں گے تو آسمان سے وہ طاقت نازل ہو گی جو دنیا کے دلوں کو بدل دے گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں گاڑ دے گی۔غرض تربیت کے لحاظ سے وقف عارضی کا منصو بہ بڑا ہی اہم ہے اور اس کی طرف جماعت کو توجہ دینی چاہئے اور خیال رکھنا چاہئے کہ آئندہ سال کے لئے کم از کم سات ہزار واقفین اس نے مجھے دینے ہیں۔ہمارا مرکزی دفتر بھی رضا کارانہ طور پر چل رہا ہے سوائے ایک مددگار کارکن کے