خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 135
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۵ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔دوران سال ان کی وفات ہو گئی۔اس صحابہ کے اس گروہ میں سے صرف قاضی محمد عبد اللہ صاحب رہ گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت ڈالے اسی طرح ایک لمبی فہرست ہے ان موصی بھائیوں اور موصی بہنوں کی جو دورانِ سال ہم سے جدا ہوئے ہیں۔تو ہر دعا کے موقع پر نماز کے وقت بھی اور اس کے علاوہ بھی جب اجتماعی دعائیں ہوتی ہیں اس وقت بھی آپ دوست اپنے ان بھائیوں کو بھی اپنی دعا میں یا درکھیں جنہوں نے ہماری خدمت میں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت میں زندگیاں گزار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے بھی اور ہم عاجز بندوں کی طرف سے بھی بہترین جزاء دے اور اپنی رحمتوں سے انہیں نو از تار ہے اور اپنی رضا کی جنتوں میں انہیں رکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ان سب کو جگہ دے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے جس طرح وہ وارث بنے خدا ایسے سامان پیدا کر دے کہ ہم بھی ہمیشہ اس کی رحمتوں کے وارث دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بنیں۔اب میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے زندگی دی تو انشاء اللہ کل پھر ملیں گے۔اگر اللہ نے زندگی دی۔(از رجسٹر خطابات ناصر غیر مطبوعہ )