خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 134
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۳۴ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب بعد اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے آئندہ کی باتیں لیکن بڑی کثرت سے پہلے ہو چکا ہے اور آئندہ بھی ہم امید رکھتے ہیں ایسا ہی ہو گا۔جو لوگ اپنا پیسہ ضائع نہیں کرتے محنت سے کام لیتے ہیں دیانتداری سے کام کرتے ہیں حفاظت کرتے ہیں اپنا وقت خرچ کرتے ہیں اور پھر ایک احمدی کی حیثیت سے اپنی زمین کے کناروں پر چکر لگاتے ہوئے اور ہل جو تتے ہوئے خدا سے دعائیں کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے مال میں اتنی برکت ڈالتا ہے اور ان کو اتنا رزق عطا کرتا ہے کہ وہ فراخی کے ساتھ اپنی زندگی کے دن بھی گزارتے ہیں اور کوئی پانچ سال بعد کوئی سات سال بعد کئی کئی مربع بھی بعض خاندانوں نے خرید لئے ہیں وہاں جو شروع میں گئے تھے اسٹیٹ سے قرض لے کر ہل بنایا اور مکان بنائے اور بعد میں تین چار پانچ سات دس مربع بھی خرید لئے اتنے پیسے انہوں نے جمع کر لئے مثلاً تین بھائی تھے۔تو آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیوی برکتیں حاصل کرنے کے بھی ذرائع پیدا کر دیتے ہیں۔آپ انہیں ضائع نہ کریں اور دفتر سے پتہ لے کر جواں ہمتی سے کام لیتے ہوئے یہ صحیح ہے کہ جذباتی قربانی کرنی پڑتی ہے اپنا گاؤں بھی چھوڑنا پڑتا ہے بعض رشتہ داروں سے بھی علیحدہ ہونا پڑتا ہے ساری عمر یہاں اکٹھے تو نہیں رہنا یہ دعا کرتے رہنا چاہئے کہ اس ابدی زندگی میں اللہ تعالیٰ ہمیں اکٹھا رکھے وہاں خاندان نہ بکھریں بھائی بھائی بہنیں بہنیں۔بہنیں بھائی بچے ماں باپ سارے وہاں اللہ تعالیٰ اکٹھا خاندانی ماحول قائم رکھے اس کے حصول کے لئے اگر یہاں کوئی قربانی دینی پڑتی ہے تو کوئی قربانی نہیں ہے ہمیں خوشی بشاشت سے دینی چاہئے خصوصاً جب اس دُنیا کا بھی فائدہ ہمیں نظر آ رہا ہو۔۱۰۔دورانِ سال وفات پا جانے والے دوست بہت سے دوست دوران سال ہم سے جدا ہوئے ہیں ان میں سے بعض روحانی طور پر اور دینی لحاظ سے ہماری بڑی خدمت کرنے والے تھے مثلاً مکرم ومحترم جلال الدین شمس صاحب چودھری محمد شریف صاحب منگمری والے۔شیخ عبدالقادر صاحب مربی قاضی محمد رشید صاحب وکیل المال مولوی عبد المغنی صاحب جہلم جو ۳۱۳ صحابہ میں سے آخری دو میں سے ایک تھے۔۳۱۳ صحابہ جن کے نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب میں لکھے ہیں ان کی وفات سے مثلاً چند ہفتہ پہلے دو دوست ۳۱۳ صحابیوں میں سے زندہ تھے ایک وہ اور ایک قاضی محمد عبد اللہ صاحب