خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 127

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۷ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطا۔تک اس وقت تک با قاعدہ نصاب مقرر کر کے خط و کتابت کے ذریعہ آپ ہمیں اتنا پڑھا دیں کہ جب ہم ریٹائر ہوں تو ایک دو مہینے کے اندر آپ ہمیں پالش کر کے جہاں آپ نے بھیجنا ہو کام لینے کے لئے وہاں آپ بھجوا دیں اور میری طبیعت میں بڑی بشاشت پیدا ہوئی۔ہر آدمی سوچتا ہے کئی دوستوں نے مجھے لکھا ہے کئی نے نہیں لکھا لیکن میں بڑا ہی ممنون ہوں ایسے دوستوں کا جو جرات کے ساتھ مجھے لکھ بھی دیتے ہیں چنانچہ میں نے ایک کمیٹی مقرر کر دی ہے جو نصاب کے متعلق غور کر رہی ہے اس سال یکم مئی سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ خط و کتابت کے ذریعہ سے اس تعلیم کو شروع کر دیں گے۔اس سے پہلے پہلے دوست ہمت کر کے زیادہ سے زیادہ نام لکھوائیں تا کہ ہم ان کی تعلیم ان سے شروع کریں بعض لوگوں نے جو پہلے لکھ چکے ہیں بہتر ہے کہ وہ بھی دوبارہ لکھ دیں کیونکہ بعض کے نام مجھے یاد ہیں ہو سکتا ہے کہ بعض کے مجھے یاد نہ ہوں کوئی ایسا دفتر نہیں تھا جہاں ان کے نام محفوظ کئے جاتے۔بہر حال کوئی پانچ سال کے بعد ریٹائر ہوتا ہے کوئی دس سال کے بعد یہ نہ سوچیں کہ ہم نے فوراً ہی ریٹائر ہونا ہے بلکہ خلوص نیت ایسے بھی دوست ہوتے ہیں۔ایک نے مجھے لکھا کہ میں اپنی زندگی وقف کرتا ہوں ریٹائر منٹ کے بعد ایک ہفتہ نہیں ہوا تھا کہ مجھے خط اسی دوست کا آیا کہ آپ نے میرے وقف کو قبول نہیں کیا اگر میں اس عرصہ میں مرجاتا تو خدا تعالیٰ کے نزدیک تو میں واقف نہیں تھا تو آپ مجھے فوراً اطلاع دیں کہ آپ نے میرا وقف قبول کر لیا ہے تا کہ مجھے یہ تسلی ہو کہ اگر مر جاؤں تو میں واقفین زندگی میں خدا کی نگاہ میں شمار کیا جاؤں گا اس قسم کے جوش والے نوجوان بھی ہیں کوئی تین سال بعد کوئی پانچ سال بعد کوئی دس سال بعد کوئی پندرہ سال بعد اور کوئی بیس سال بعد بلکہ میرے خیال میں اگر نو جوان ابھی۔وقف کریں تو ایک لمبا عرصہ ان کو تربیت حاصل کرنے کا اور ایک لمبا عرصہ خدا تعالیٰ کا اجر پاتے رہنے کا زمانہ مل جائے گا تو اس زمانہ میں اس عرصہ میں وہ نیکی بھی کماتے رہیں گے دُنیا بھی کماتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں ریٹائر منٹ کے بعد فارغ ہونے کے بعد ان کو یہ توفیق عطا کرے گا کہ وہ ایسے رنگ میں اس کے دین کی خدمت کر سکیں کہ اللہ تعالیٰ سے وہ اجر عظیم یعنی ایسا اجر پاسکیں کہ پہلی اُمتوں میں سے کسی کو نہ ملا ہو اس کو وہ حاصل کر سکیں۔دوست اس طرف جو ملازم پیشہ دوست ہیں یا دوسرے دوست مثلاً کئی دکاندار بھی ایک عمر