خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 95
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۹۵ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب ہمارے جو عقائد ہیں وہ اس کو محبوب اور پیارے ہیں اور وہ ایسے عقائد ہیں جو اس کی جماعت کے ہونے چاہئیں تبھی تو وہ ہمیں ترقی دیتا چلا جاتا ہے اور تبھی تو ہم نے یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کے تمام جلوے آپ کے لئے اے جماعت غیر مبائعین جلوہ گر ہوئے جو اس جماعت کے لئے جلوہ گر ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ تنزل کی طرف لے جارہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہر وہ جن کواللہ جار اور کی جلوہ ہم پر ظاہر ہوا جو اس جماعت پر ظاہر ہوتا ہے جس کو وہ ترقی کی منازل پر چڑھاتا چلا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے عقائد نہ بدلے اور نہ غلط ہوئے اور خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پیارے ہیں۔انہی عقائد کے ساتھ ہم نے ترقی کی ہے اور آپ نے انہی عقائد کو چھوڑ کر تنزل کی راہوں کو اختیار کیا ہے۔آج آپ کا یہ حال ہے کہ آپ کا حالیہ جلسہ سالانہ جو دسمبر ۱۹۶۶ء میں ہوا۔اس میں آپ کی جو زیادہ سے زیادہ تعداد تھی اس سے سولہ گنا زیادہ غیر ممالک میں ایک سال کے اندر جماعت احمدیہ کی نئی بیعتیں ہوئی ہیں اور آپ کے جلسہ سالانہ کی جو کم سے کم تعداد تھی اس سے پچاس گنا زیادہ غیر ممالک میں ایک سال کے اندر جماعت احمدیہ کی نئی بیعتیں ہوئی ہیں، تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہم کمزور انسانوں کو ہمارا بڑائی کا کوئی دعوی نہیں نہ ہم کسی طاقت کا دعویٰ کرتے ہیں نہ ہم کسی علم کا دعویٰ کرتے ہیں اور نہ ہم کسی تقویٰ کا دعویٰ کرتے ہیں ہم تو کچھ بھی نہیں لیکن خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت یہ بتا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہماری باہوں کو پکڑتے اور ہمیں ان بلندیوں تک پہنچاتے چلے جارہے ہیں جہاں تک ہم اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ایک اور بات جو یہ لوگ دہراتے چلے جارہے ہیں وہ یہ ہے جو پیغام صلح میں بھی یہ لکھا گیا اور انگریزی کا جو اخبار ہے اس میں بھی لکھا گیا کہ بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک بلند روحانی مقام پر قائم تھے لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو اس روحانیت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں تھا بلکہ آپ الٹ تھے۔آپ کے اندر کوئی روحانیت نہیں تھی اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو ویسے اللہ تعالیٰ نے عقل بڑی دی تھی لیکن جو خلیفہ ثالث انہوں نے بنایا ہوا ہے اس میں عقل بھی کوئی نہیں، نہ روحانیت ہے نہ عقل ہے۔ایک تو مجھے یہ سوچ کے رحم آتا ہے کہ میرے بعد جو ہوگا اس کے متعلق آپ کیا کہیں گے۔آپ نے اپنے لئے دروازہ بند کر لیا ہے۔حضرت