خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 80
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۸۰ ۲۱؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب کیپ ٹاؤن (جنوبی افریقہ ) اکرہ (غانا) لیگوس ( نائیجیر یا گوش ( نائیجیریا) یہ تو فوری کام ہیں جن کی طرف جماعت کو اگلے سال کے اندر اندر توجہ دینی پڑے گی لیکن آپ یہ نہ سمجھیں کہ کام یہیں ختم ہو گیا ہے انگریزی کا محاورہ ہے Momentum Gaines یعنی موٹر اور گاڑی کی رفتار آہستہ آہستہ تیز ہوئی ہے۔ہماری حرکت بھی آہستگی کے ساتھ تیزی کی طرف بڑھ رہی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کے کاموں میں ایک قسم کی تیزی پیدا کر دی ہے اور جب حرکت میں تیزی پیدا ہو جائے تو دو میں سے ایک بات کا ہونا ضروری ہے۔یا تو حرکت بند ہو جاتی ہے اور اس کا نام موت بھی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ابھی ہماری جماعتی موت کا وقت نہیں آیا۔ابھی ہماری زندگی اور کامیابیوں کا وقت ہے یا پھر وہ حرکت پہلے سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے اور کم خرچ پر زیادہ نتائج پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً موٹر اگر ہیں میل نی۔فیی گھنٹہ کی رفتار سے جارہی ہو تو ایک گیلن پٹرول خرچ ہو گا اور اگر اس کی رفتار چالیس میل سے بڑھ جائے۔تو وہ ایک ہی گیلن پٹرول میں یہ فاصلہ طے کرے گی اور یہ اس نے کم خرچ میں زیادہ نتیجہ نکالا ہے یہ دونوں چیزیں ( یعنی کم رفتار یا زیادہ رفتار ) اپنے نتائج کے لحاظ سے مفید ہوئی ہیں لیکن ہم نے کسی ایک نتیجہ پر ٹھہر نانہیں اور نہ اپنی کوشش کو ایک جگہ روکنا ہے بلکہ اُسے پہلے سے زیادہ کرنا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ہمارا خدا محض اپنے فضل سے ہماری کوششوں کے نتیجے پہلے کی نسبت زیادہ سے زیادہ نکالتا چلا جائے گا۔اپنے متعلق اور فوری پروگرام کے متعلق میں اس قدر کہنا چاہتا ہوں۔اب وقت بھی زیادہ ہو گیا ہے اور دو تین دن سے مجھے خونی پیچش بھی ہے جس کی وجہ سے زیادہ بولنا مشکل ہے گو میں بیمار تھا لیکن ان دنوں میں یہ ممکن ہی نہ تھا کہ میں اس بات کے متعلق سوچوں کہ کام کم بھی کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ میں نے اپنے عزیز بھائی ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کو یہ کہا کہ میں کوئی ایسی دوائی نہیں لگاؤں گا جو میرے کام میں روک بنے اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ آج کچھ افاقہ ہو گیا۔جس کی وجہ سے میں نے اس قدر تقریر کر لی ہے لیکن بیماری کا بہر حال مجھے پر اثر تھا اور اس اثر کی وجہ سے بعض اوقات میری زبان بھی رُک جاتی تھی اور لفظ کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے میں نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو کچھ مجھ سے ہو سکا احباب کے سامنے بیان کر دیا ہے۔