خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 77

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب پاکستان میں وقف جدید کے معلم کام کر رہے ہیں یعنی جس طرح معلم سند یافتہ مبلغ نہیں لیکن انہیں تبلیغ کے کام پر لگایا گیا ہے اور وہ اپنی استطاعت کے مطابق اس کام کو کر رہے ہیں اس طرح یہ لوگ بھی بیرونی ممالک میں ہمارے مبلغ ہوں گے۔گوسند یافتہ مبلغ نہیں ہوں گے اور یہ ضروری نہیں کہ کوئی شخص پہلے جامعہ احمدیہ میں داخل ہو اور وہاں کئی سال تک تعلیم حاصل کرتا رہے تب کہیں جا کر وہ مبلغ بنے۔مبلغ کے لئے دراصل دعا کی ضرورت ہے اس کے لئے اصل چیز اپنے رب پر توکل ہے اور کبر وغرور کا فقدان۔پس اصل چیز یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ جو کچھ میں نے پایا ہے خدا تعالیٰ سے پایا ہے اور خدا تعالیٰ جتنا چاہے مجھے دے سکتا ہے اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں ہے غرض اصل چیز دعاؤں کی عادت ہے دوسروں کی خدمت بھی دعا کے ذریعہ ہو سکتی ہے۔بعض لوگ پیسے دے کر دوسروں کی خدمت کر لیتے ہیں۔بعض لوگ دوسروں کے لئے فراخ دلی سے وقت دے دیتے ہیں لیکن ان کو خیال نہیں آتا کہ ہم ان کی بہترین خدمت دعا کے ذریعہ کر سکتے ہیں۔پہلی بات جو خدمت کے سلسلہ میں ایک احمدی کے سامنے آنی چاہئے وہ دعا ہے۔جب بھی اس کے کسی دوست کی کوئی ضرورت اس کے سامنے آئے وہ اپنے رب سے کہے اے خدا ! یہ صحیح ہے کہ میں کچھ بھی نہیں لیکن تو میری دعا قبول کرلے اس طرح اس کی توجہ تیری طرف ہو جائے گی۔اس وقت وہ تیری طرف متوجہ نہیں دیکھو اللہ تعالیٰ نے جب محاذ جنگ پر ہماری افواج کو اپنی قدرت کے نظارے دکھائے تو مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ سینکڑوں ہمارے آفیسر ایسے تھے جو نام کے مسلمان تھے اور قریباً د ہر یہ تھے۔انہوں نے نہ تو کبھی قرآن کریم کو ہاتھ لگایا تھا اور نہ وہ حقیقتاً دل سے کبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے تھے لیکن اب وہ قرآن کریم کے شیدائی بن گئے ہیں۔انہیں یہ معلوم ہو گیا ہے کہ ان کا خدا ایسا ہے جو اس قسم کے معجزے دکھاتا ہے اور ان کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں قبول کرتا ہے۔پہلی اور حال کی کئی بشارتیں ہماری فوج کے اندر بہت مقبول ہوئی ہیں۔پس یہ بہت بڑی بات ہے بظاہر کچھ بھی نہیں لیکن پھر بھی بہت کچھ ہے۔صرف منہ سے چند کلمات دعا کہہ دینے ہیں۔کوئی روپیہ خرچ نہیں آتا۔کوئی پیسہ خرچ نہیں آتا لیکن ایک نمایاں تغیر دنیا کے سامنے آجاتا ہے اور دیکھنے والا حیران ہوتا ہے اور پھر وہ اس وجود کی طرف جس کی قوت اور قدرت سے وہ تغیر رونما ہوا جھکتا ہے۔