خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 698 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 698

۱۸ جو شخص اپنی استعداد کے مطابق صفات خدائے رحیم اپنی رحیمیت کی صفت کے تحت باری کا مظہر بن جاتا ہے وہ پرسکون اور انسانی کوششوں میں کمزوریوں کو دور کرتا ہے ۵۹۰ خوشحال زندگی حاصل کرتا ہے اپنی اپنی استعداد کے مطابق صفات باری عمل کے فیض پہنچا تا او نفع پہنچا تا اورنعمتوں ۳۱۰ سے مالا مال کر دیتا ہے ۳۱۰ خدا تعالیٰ صفت رحمانیت کے تحت بغیر کسی کے مظہر بنو اللہ تعالیٰ کے معنی ہیں وہ ذات جو تمام کامل انسان کو تمام قو تیں اور طاقتیں صفات باری اور اچھی صفات کی جامع ہے ۳۱۱ تعالیٰ کا مظہر بننے کے لئے دی گئی ہیں دوسروں کی نسبت شیعوں کا امام مہدی سے مظہر اتم بن جائے یعنی اس کے اندر بھی ظلی امام مهدی طور پر تمام صفات الہیہ جمع ہو جائیں بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کی مختلف صفات کا ۳۱۱ زیادہ تعلق ہے مظہر بنانے کے لئے کامل اور مکمل نمونہ کی شیعہ کتب میں امام مہدی کا نقشہ دوسرے فرقوں کی نسبت زیادہ صحیح کھینچا گیا ہے ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے ۳۹۲ ۳۹۲ امت مسلمہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو غیر محدود ترقیات ہر نبی اللہ تعالیٰ کا مظہر اتم نہیں تھا بلکہ ہر نبی کے وعدے دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا مظہر تھا ۳۹۳ ہر وہ شخص جو امت محمدیہ میں مذہب یا اللہ تعالیٰ کی صفات غیر محدود ہیں اور پھر ان سیاست کے نام پر فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے ہم صفات کے جلوے غیر محدود ہیں ۳۹۶ اس کی بات کو ر ڈ کرتے ہیں حقیقت محمدیہ اللہ کی مظہر اتم ہے تمام صفات حسنہ دنیا ملت واحدہ بن جائے گی پاکستان، کی جامع ہے ۳۹۷ ہندوستان اور چین اور روس اور یورپ اور اگر تمہاری کوششوں کے نتیجہ میں تمہاری امریکہ اور جزائر کے رہنے والوں میں کوئی زندگی پر خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ نہیں فرق نہیں رہے گا ΟΛΙ چڑھا تو تمہاری کوشش غلط ہے انسان کو اپنے دائرہ استعداد کے اندر خدا تعالیٰ ایسا پیدا نہیں ہوا جسے حضرت نبی کریم علی کی صفات کا مظہر بننے کے لئے پیدا کیا ہے ۵۸۵ ۵۸۱ امام مہدی کے علاوہ کوئی بزرگ امت مسلمہ میں ۵۸۵ نے اپنے سلام کے لئے منتخب کیا ہو ۵۹۲ ۵۹۴ ۶۶۶ ۶۶۷ ۴۲۶ ۴۳۷ ۴۶۷ ۴۸۲