خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 697
اصل قوت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو تمہارا ہے وہ مجھے دے اس سے تعلق قائم کریں ہمارا خدا بڑی قدرتوں والا وہ بڑی حکمتوں والا اور بڑی طاقتوں والا رب ہے ۵۳۰ ۵۳۱ دو جو میرا ہے وہ بھی تمہیں مل جائے گا اور تم غالب آجاؤ گا اے ہمارے پیارے ربّ! تو ہمیں ہماری غفلتوں خدا تعالیٰ ہماری تھوڑی سے کوشش سے بے شمار اللہ تعالیٰ سے تجارت ایک ایسی تجارت ہے اور گناہوں کے بُرے نتائج سے بچا جس میں پیسے کے ضیاع کا کوئی خطرہ نہیں ۵۳۳ اللہ تعالیٰ بدلے ہوئے حالات میں خود معلم بنتا ہے اور انگلی پکڑ کر منزل کی طرف لے جاتا ہے ۵۶۰ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انسان کی انفرادی ۵۷۰ نعمتوں کا وارث بنادیتا ہے جھوٹے خدا اپنی خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے اور اجتماعی زندگی میں برکت ڈال دیتا ہے اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے فضل کے بغیر سب حیلوں سے منہ موڑ کر اس خدا پر کامل ۵۷۰ توکل اور پختہ اور زندہ ایمان لاؤ حاصل نہیں کیا جاسکتا اللہ تعالیٰ کا جو فضل ہے دنیا جہاں کے خزانے ہمارا خدا دشمن کے دیئے ہوئے ہر دکھ کو سکھ اس کی قیمت نہیں بن سکتے ۵۷۰ میں تبدیل کر دینے والا ہے خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت اور عرفان کے ہمارا خدا ہر آگ کو ٹھنڈی کر دینے والا اور ۵۸۵ سلامتی سے لبریز کر دینے والا ہے والا لئے انسان کو پیدا کیا ہے اللہ تعالیٰ نے گھوڑے کو شریعت نہیں دینی تھی اس خدا کو کبھی نہ بھولو اس سے کبھی جدائی اختیار لئے گھوڑے کو وہ جسم نہیں دیا نہ عقل اور سمجھ ۵۸۸ خدائے رحیم انسان کی کوششوں کو ضائع ہونے سے بچاتا اور کچی کوشش اور محنت کا پھل دیتا ہے ۵۹۰ نہ کرواسی میں ہماری زندگی ہے خدا میں ہمارا سکون اور وہی ہماری جنت اور وہی ہماری روح ہے صفات باری تعالیٰ اگر خدا سے دور ہی رہنا ہے تو پھر زندگی کا کوئی مزہ نہیں ہے موت ہمارا منتہا نہیں اللہ تعالیٰ کی رضا ہماری منتہائے مقصود ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم پر منحصر ہے ۶۰۱ ۶۰۲ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات سب مخلوق پر جلوہ گر ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے جلوے دیکھنے کے بعد انسان کا سب کچھ خدا کا ہو جاتا ہے ۶۰۹ ۶۱۳ ۶۷۸ ۶۷۹ ۶۸۰ ۶۸۰ ۶۸۰ ۶۸۰ ۶۸۰ ۱۵۱ ۲۲۹