خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 658 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 658

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۵۸ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب کے مطابق ہے۔تم اگر یہ کہتے ہو کہ کہاں ہیں وہ نشان جن کا دعویٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا گیا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کا نچوڑ تھے۔ان کی باتیں نہ کرو۔آپ کے علاوہ بھی آج ہزاروں آپ کے غلام موجود ہیں اس قسم کے نشان تمہیں دکھا سکتے ہیں جو تم مسیح کی طرف منسوب کرتے ہو۔کیا یہ واقعہ اور حقیقت نہیں ہے کہ تم عیسائی پادریوں نے جو ڈاکٹر تھے اور اپنے فن میں ماہر تھے۔مغربی افریقہ میں بعض مریضوں کو جب لا علاج قرار دے دیا۔جو تمہارے منہ میں بجتی نہیں کیونکہ حضرت مسیح نے کہا تھا کہ اگر تم میں رائی کے برابر ایمان ہوگا تو تم معجزانہ طور پر بیماروں کو چنگا کرو گے لیکن اس رائی کے برابر ایمان کا بھی انکار کرتے ہوئے تم نے اعلان کیا کہ بعض مریض لاعلاج ہیں۔تب مسیح محمدی کے غلاموں کے پاس وہ مریض آئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے ان کو اچھا کر دیا۔فالحمد للہ علی ذلک۔دنیا انشاء اللہ احمدیت کے ذریعہ ان نشانوں کو دیکھتی چلی جائے گی کیونکہ یہ خدا کی شان کو نمایاں کرنے کے لئے ہیں۔ان نشانوں کے ذریعہ دنیا کے دل میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور انسانوں سے ہمدردی کے جذبات کو پیدا کرنا مقصود ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر دنیا کے دل جیتنے کے لئے اور آپ کے جھنڈے تلے نوع انسانی کو جمع کرنے کے لئے اپنی زندہ تجلیات دکھاتا ہے۔یہ کہنا کہ وحی کے دروازے بند ہیں، یہ کہنا کہ کوئی مسلمان اب سچی خواب بھی نہیں دیکھ سکتا ، یہ اعلان کرنا کہ خدا تو زندہ ہے لیکن وہ آج اپنی زندگی کا ثبوت نہیں دیتا، خدا کبھی سنتا تھا پر آج وہ انسان کی بات نہیں سنتا اور کبھی وہ بولتا تھا لیکن آج اس نے بولنا بند کر دیا ہے، بالکل غلط ہے۔تم یہ اعلان کر کے اسلام کی عظمت کو نوع انسانی کے دل میں قائم نہیں کر سکتے۔۱۹۶۷ء میں ایک جگہ مجھ سے ایک عیسائی عورت نے جو سوشل ورکر تھی پوچھا تھا مسلمان اور عیسائی میں کیا فرق ہے؟ میں نے اس سے کہا کہ تمہارا مطلب یہ ہے کہ ایک عیسائی اور ایک سچے مسلمان میں کیا فرق ہے؟ وہ کہنے لگی ہاں میرا یہی مطلب ہے۔میں نے کہا کہ ایک سچے مسلمان کا زندہ تعلق اپنے خدا سے ہوتا ہے لیکن عیسائی دنیا میں ہمیں ایک آدمی بھی نہیں دکھایا جا سکتا جس کا تعلق خدا سے ہو۔پھر میں نے کہا تم ایک عورت ہو۔میں تمہیں ایک عورت کی