خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 651
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۵۱ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۳ء۔اختتامی خطاب تھیں۔کیونکہ اسلام پر حملہ بڑا سخت تھا اور مسلمان دینی لحاظ سے بہت کمزور ہو گئے تھے۔پھر انہوں نے کہا۔پھر جماعت احمدیہ کے مبلغ آئے اور انہوں نے ہمیں قرآن عظیم کی صحیح تفسیر سمجھائی۔اب ہم گردنیں اونچی کر کے اسلام کا نام لیتے ہیں۔بہر حال یہ تو اس زمانہ کے بعد کے زمانہ کی باتیں ہیں۔اس زمانہ میں تو دشمن یہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ بس ہم نے اسلام کو مغلوب کر لیا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں ہندوستان میں پادریوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ہندوستان میں دیکھنے کو کوئی مسلمان باقی نہیں رہ جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ افریقہ ہماری جھولی میں پڑا ہے۔پھر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان ممالک کو ہم فتح کرتے ہوئے خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا خانہ کعبہ پر لہرائیں گے۔یہ وہ اعلانات تھے جو اس زمانہ میں عیسائی پادریوں کی طرف سے کئے گئے تھے اور اس زمانہ میں کوئی عالم کوئی پڑھا لکھا ان کے مقابلہ میں آواز اٹھانے والا تاریخ انسانی نے کوئی نہ دیکھ پایا۔پھر اس وقت خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مست ایک انسان پیدا ہوا اور اس کا نام مسیح (علیہ اسلام) بھی رکھا گیا۔اور اس کا نام منصور بھی رکھا گیا اور اس کا نام محمد بھی رکھا گیا اور اس کا نام احمد بھی رکھا گیا اور اس کا نام محمود بھی رکھا گیا اور اس کا نام مہدی بھی رکھا گیا۔اور وہ مسیح اور مہدی خدا تعالیٰ کی طرف سے نوع انسانی کی بھلائی کے لئے اور قرآن کریم کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے ساری دنیا کی دولتوں کو اور ان ساری دنیوی طاقتوں کو اور ان سارے دنیوی اثر ورسوخ اور اقتدار کو للکارا۔انہوں نے لوگوں سے کہا تم دنیا کے مال و دولت کی وجہ سے اور دنیا کی جاہ و حشمت کے برتے اور سیاسی اقتدار کی وجہ سے اور ان ہتھیاروں کی وجہ سے جو تم نے ایجاد کر لئے ہیں یہ سمجھتے ہو کہ تم اسلام کو مغلوب کر لو گے لیکن انہوں نے کہا مہدی کو خدا نے زبردست روحانی ہتھیار دیا ہے اس لئے اسلام کو ایٹم بموں کی ضرورت نہیں ہے۔نہ تو پوں کی ضرورت ہے اور نہ رائفلوں کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ میں وہ حسن کے جلوے رکھے ہیں اور احسان کی طاقتیں رکھی ہیں کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم تمہارے دلوں کو خدا تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت نہ لیں۔اس مہدی نے اندرونی فتنوں کو دور کرنے کے لئے یہ بھی کہا کہ تم اپنی حالت دیکھو۔