خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 639
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۳۹ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار کہ سوا پکڑ ان کو دوں گا اور بعد میں آنے والوں نے اُن کی عزت کرتے ہوئے ان کی زبان کا پاس رکھا اور پچھلے سال با قاعدہ قانونی طور پر سوا یکٹر زمین رجسٹر ہو چکی ہے اور شاید کچھ اور بھی مل جاۓ۔فالحمد للہ۔بہر حال جب میں دورہ پر گیا تو خدا تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالا کہ ہم نے خدمت کی اور بے لوث خدمت کی۔ہم نے ان کی سیاست میں دلچسپی نہیں لی۔ان کے مال میں سے ایک پیسہ پر بھی ہماری نگاہ نہیں پڑی ہم باہر سے آئے انہیں اس قابل تو بنایا کہ وہ سیاست میں زیادہ مدبرانہ طور پر حصہ لے سکیں لیکن ان کی سیاست میں ہم نے حصہ نہیں لیا۔ہم نے اُن کی دولت میں کوئی لالچ یا طمع نہیں کیا۔ان کو تعلیم دے کر اس قابل بنادیا کہ اپنے لئے اور اپنے ملک کے لئے یہ زیادہ کمائیں لیکن پھر بھی جو کرنا چاہئے تھا جس کے یہ مستحق اور ضرورت مند ہیں وہ ہم نے نہیں کیا۔اس سلسلہ میں انسان سوچتا بھی ہے اور دعائیں بھی کرتا ہے۔پانچواں ملک جہاں میں گیا وہ گیمبیا تھا اور گیمبیا میں اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کہا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ ان ممالک میں ان کی خدمت کے لئے خرچ کرو۔جب میں وہاں سے واپس آیا تو پہلا ملک جہاں افریقہ سے باہر ٹھہر اوہ انگلستان تھا۔میں نے اپنے بھائیوں سے بڑی وضاحت سے یہ کہا کہ خدا نے یہ کہا ہے کہ یہ کام کرو میں اُن سے اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کے مطابق یہ وعدہ کر کے آیا ہوں کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے پانچ سات سال کے اندر اندر تمہارے مملکوں میں سولہ نے طبی مراکز کھولوں گا اور کافی نئے سیکنڈری سکول کھولوں گا۔تعداد بھی میں نے بتائی تھی اس وقت مجھے یاد نہیں رہی بہر حال سولہ سے زیادہ ہی بتائی ہوگی۔اس کے لئے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔اس کے لئے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے اس کے لئے ٹیچرز اور پروفیسروں کی ضرورت ہے اس کے لئے مال کی ضرورت ہے اور چونکہ خدا نے کہا کہ کم سے کم اتنا خرچ کرو اس لئے میں اپنے رب سے یہ امید رکھتا ہوں کہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے سامان وہ خود ہی پیدا کر دے گا اور مجھے ایک سیکنڈ کے لئے بھی گھبراہٹ نہیں کہ مجھے ڈاکٹر کہاں سے ملیں گے سکولوں میں پڑھانے والے ایم ایس سی لیکچررز کہاں سے آئیں گے سکولوں یا ہسپتالوں کی عمارتیں بنانے کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا۔خدا کی یہ منشاء ہے خدا کی منشاء پوری ہوگی۔ایک چیز کی مجھے فکر ہے اور وہ یہ میرا پہلا اعلان تھا وہاں سے آکر اور مجھے بھی اس کی فکر ہے تمہیں بھی اس کی فکر کرنی پڑے گی پیسہ بھی خدا