خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 628
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۸ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطاب اور کل کو میں یہ نہیں سنوں گا کہ جی بنیادیں بھر گئی ہیں اور پیسہ ختم ہو گیا اور پیسے دو۔اس لئے واپس جاؤ اور اسی نقشہ پر نئے سرے سے لکیریں ڈالو اور کہو اتنا میں مکمل کر دوں گا۔میں نے کہا ٹھیک ہے میں لکیریں ڈالتا ہوں لیکن میں نے کہا مجھے یہ اجازت دے دیں میں انفرادی طور پر جماعت کے اہلِ ثروت افراد سے یہ تحریک کروں کہ وہ اس میں مالی عطیہ دیں اور جتنی عمارت بن سکے ہم بنا دیں۔خیر میں آگیا۔میں نے لکیریں ڈالیں اور دوبارہ نقشہ حضرت صاحب کے پاس لے گیا۔حضرت صاحب نے فرمایا ٹھیک ہے۔عمارت شروع کر دی گئی۔میں نے بنانے والوں سے کہا کہ پہلے تین Wings ( حصوں ) میں سے دو حصے بنانے شروع کر دو اور برآمدے نہ بنانا۔پھر مجھے خیال آیا کہ برآمدوں کی کم از کم بنیا دیں پہلے بھر دینی چاہئیں ورنہ بنیاد ٹھیک نہیں رہے گی۔میں نے کہا کہ چلو برآمدے کی بنیاد بھی بھر دو لیکن اوپر کی عمارت نہیں بنانی۔کام شروع ہو گیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دعاؤں سے ہمیں برکت دی اور جماعت کو یہ توفیق ملی کہ وہ حصہ لے اور وہ عمارت جو حکومت اپنی پوری نگرانی اور طاقت کے باوجود اُس سستے زمانے میں (ستے زمانہ میں ہم نے بنائی میں ستے زمانہ کی بات کر رہا ہوں ) تمیں چالیس لاکھ روپے میں بھی نہیں بناسکتی تھی وہ خُدا کے فضل سے چھ لاکھ روپے میں تیار ہوگئی اور زیادہ حصہ افراد جماعت نے خاموشی سے بھیج دیا اور وہ خرچ ہوتارہا اور خدا کی یہ شان دیکھی کہ وہ تعمیر کی نہیں۔جب بھی پیسہ ختم ہونے لگتا تھا اللہ تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے مدد کے سامان کر دیتا تھا اور میں نے آپ سے جلسہ سے پہلے کہا کہ ایک دھیلہ بھی آپ کو خدا نے ضائع کرنے کے لئے نہیں دیا۔میں نے آپ کو اُس وقت تو یہ بتایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ رکابی میں ایک لقمہ بھی اپنی ضرورت سے زائد نہ ڈالو۔جس سے میں نتیجہ نکالتا ہوں کہ اُمتِ محمدیہ کے کسی فرد کو ایک نعمہ بھی ضائع کرنے کی نہ اجازت ہے اور نہ اسے پسند کیا گیا ہے۔پس خدا تعالیٰ بھی جو ہم سے سلوک کرتا ہے وہ ضیاع سے بچاتا ہے۔ایک مرتبہ مجھے یاد ہے گرمیوں میں میں چھت کے اوپر کالج کے ہال کی چھت ڈلوا رہا تھا اور کوئی ڈیڑھ سو بوری سیمنٹ ہم چھت کے لئے ہم ریت اور بجری میں ملوا چکے تھے۔تو شمال سے دس بجے کے قریب بادلوں کی کالی گھٹائیں اُٹھیں میں نے سوچا کہ اگر یہ بارش اب ہوگئی تو یہ ڈیڑھ سو بوری سیمنٹ کی ( روڑی نے خراب نہیں ہونا ریت کچھ خراب ہو جائے گی لیکن اس کی