خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 629
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۲۹ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۳ء۔دوسرے روز کا خطار قیمت زیادہ نہیں لیکن سیمنٹ کی ڈیڑھ سو بوری ضائع ہو جائے گی۔تب وہ اللہ تعالیٰ جب اپنے عاجز بندوں کی دُعا قبول کرتا ہے تو ایک فقرہ بھی قبول کر لیتا ہے۔اُس وقت میرے دل میں خیال آیا اور میں نے دُعا کی کہ خدایا تیرا نقصان ہو جائے گا۔اگر یہ بارش برس گئی تو تیری جماعت کا نقصان ہو جائے گا اور اُس کے بعد میں نے اُن بادلوں کی طرف منہ کیا اور سر سے اشارہ کیا کہ اُدھر چلے جاؤ! اور بادلوں نے اپنا راستہ چھوڑا اور جنوب کی جانب نکل گئے اور ایک فرلانگ کے فاصلہ پر برستے ہوئے لائکپور کی طرف چلے گئے۔تو خدا تعالیٰ کا فعل بھی ہمیں یہ بتاتا ہے اور اُس کا حکم اور تعلیم بھی ہمیں یہ کہتی ہے کہ ہمیں کوئی پیسہ ضائع کرنے کے لئے نہیں دیا گیا اور خدا تعالیٰ نے برکت ڈالی اور خدا تعالیٰ نے ہم عاجز بندوں کو (یعنی ساری جماعت کو ) یہ توفیق دی کہ وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی پیسہ ضائع نہ ہو اور برکتوں سے ہمارے گھر بھر جاتے ہیں۔میں نے بتایا کہ ہم اپنے بھائیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک حد تک کوششیں کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس سال اتنی برکت دی کہ ضرورت بڑھ گئی تھی خصوصاً دو وجوہ سے ایک سیلاب کی وجہ سے نقصان ہو گیا تھا۔یہاں ربوہ میں بہت سے لوگوں کے سامان ضائع ہو گئے تھے اور دوسرے سردی کی وجہ سے ضرورت بڑھ رہی تھی اور تیسرے یہ کہ کچھ گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں میں وہ بھی برکت دیتا ہے بہر حال یہ جو مختلف شعبوں کی طرف سے امداد دی جاتی ہے۔ایک امداد دی جاتی ہے پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے میری منظوری کے ساتھ۔میرے پاس بعض ایسی درخواستیں آجاتی ہیں اور بعض لوگ بظاہر محتاج نہیں ہوتے وہ سفید پوش ہوتے ہیں اور ان سے بات کرتے ہوئے بھی شرم آتی ہے لیکن میں تو ہر ایک کے لئے اللہ کے حکم سے باپ کے طور پر ہوں اور اسی طرح میرے ساتھ جماعت کا ہر فر دسلوک کرتا ہے خواہ وہ اپنی عمر میں کتنا ہی بزرگ کیوں نہ ہو بہر حال وہ مجھے لکھ دیتے ہیں کہ ہمیں ضرورت ہے۔میں پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ سے کچھ مدات ہیں بجٹ کی اور کچھ دوسری مدات ہیں جو باقاعدہ بجٹ کا حصہ نہیں ان میں سے ان کو مدد چلی جاتی ہے۔کچھ وظائف مقرر ہیں طلبہ کے، بیواؤں کے، تو ستاون ہزار روپیہ اس مد سے دیا گیا ہے۔صدر انجمن احمد یہ نے اپنے کارکنان کی امداد پر اکہتر ہزار سات سو چھہتر روپے کی امداد دی۔تحریک جدید نے اپنے --