خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 615 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 615

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۱۵ ۲۶ دسمبر ۱۹۷۳ء۔افتتاحی خطاب دعا تو آج کی دنیا اور آج کے زمانہ کی ایک ہی ہے ( باقی تو ذیلی دعائیں ہیں ) اور وہ یہ کہ اے ہمارے رب تو نے اسلام کے آخری غلبہ کی اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دُنیا کے ہر دل میں پیدا ہو جانے کی اور توحید حقیقی کا جھنڈا ہر گھر میں لہرانے کی جو بشارتیں دی ہیں اے ہمارے پیارے ربّ کریم! تو اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر کہ یہ بشارتیں ہماری : زندگیوں ہی میں پوری ہو جائیں تا کہ جب ہم اس دُنیا سے رخصت ہوں تو ہمارے دل اس خوشی سے معمور ہوں کہ جو فرض ہمارے کمزور کندھوں پر عائد کیا گیا تھا اُس کو ہم نے تیری ہی توفیق ا سے، اے ہمارے مولیٰ ! اور تیری رضا کے مطابق ادا کر دیا ہے۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔اَللَّهُمَّ (مِيْنَ اللَّهُمَّ مِيْنَ !! اللَّهُمَّ امِيْنَ !!! اللَّهُمَّ امِینَ۔آواب دُعا کرلیں۔روزنامه الفضل ربوه مورخه ۱۱ار جنوری ۱۹۷۴ء صفحه ۳ تا ۵ )