خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 51 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 51

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۱ ۲۱ ؍دسمبر ۱۹۶۵ء۔اختتامی خطاب محبت الہی میں ، شفقت علی العباد میں، وفا، رضا اور استقامت میں اس عالی مرتبہ پر تھا جس کی نظیر آج کی دنیا میں ملنی ممکن نہیں۔غرضیکہ اس کی نورانیت اس سے تعلق رکھنے والوں کے دلوں کو ہر وقت اور ہر آن منور کرتی رہی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔”نور آتا ہے نور اور خدا شاہد ہے کہ پسر موعود کے شامل حال ایک عظیم الشان نور تھا۔براہین احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمرہ ابرار کا ذکر کیا ہے۔جن پر اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے طفیل بہت سی برکتیں نازل فرماتا ہے۔ان برکتوں میں سے ایک چیز ” نور“ بھی ہے۔جس کی حقیقت آپ نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمائی۔اور حقیقت میں وہی ایک نور ہے جو اُن کے ہر یک قول اور فعل اور حال اور قال اور عقل اور فہم اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جاتا ہے اور صد ہاشاخیں اس کی نمودار ہو جاتی ہیں اور رنگارنگ کی صورتوں میں جلوہ فرماتا ہے۔وہی نور شدائد اور مصائب کے وقتوں میں صبر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور استقامت اور رضا کے پیرا یہ میں اپنا چہرہ دکھاتا ہے۔تب یہ لوگ جو اُس نور کے مورد ہیں آفات عظیمہ کے مقابلہ پر جبال راسیات کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور جن صدمات کی ادنی مس سے نا آشنا لوگ روتے اور چلاتے ہیں بلکہ قریب بمرگ ہو جاتے ہیں ان صدمات کے سخت زور آور حملوں کو یہ لوگ کچھ چیز نہیں سمجھتے اور فی الفور حمائیت الہی کنار عاطفت میں ان کو کھینچ لیتی ہے اور کوئی خامی اور بے صبری ان سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ محبوب حقیقی کے ایلام کو برنگِ انعام دیکھتے ہیں اور بکشادگی سینہ وانشراح خاطر اس کو قبول کرتے ہیں بلکہ اس سے متلذ ذ ہوتے ہیں۔کیونکہ طاقتوں اور قوتوں اور صبروں کے پہاڑ ان کی طرف رواں کئے جاتے ہیں اور محبت الہیہ کی پُر جوش موجیں غیر کی یادداشت سے ان کو روک لیتی ہیں۔پس اُن سے ایک ایسی برداشت ظہور میں آتی ہے کہ جو خارق عادت ہے اور جو کسی بشر سے بلا تائید الہی ممکن نہیں اور ایسا ہی وہ نور حاجات کے وقتوں میں قناعت کی صورت میں ان پر جلوہ گر ہوتا ہے۔سودنیا کی خواہشوں سے ایک عجیب طور کی بُرودت اُن کے دلوں میں پیدا ہو جاتی ہے کہ بد بودار چیز کی طرح دنیا کو سمجھتے ہیں اور یہی دنیوی لذات جن کے حظوظ پر دنیا دار لوگ فریفتہ ہیں و بشوق تمام ان کے جو یاں اور اُن کے زوال سے سخت ہر انسان ہیں یہ اُن کی نظر میں بغایت درجہ نا چیز ہو