خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 603
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۶۰۳ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب آخر خدا نے اس کے دماغ میں روشنی ڈالی۔اس نے ان عورتوں سے کہا دیکھو ! تم دونوں اس بچے کی ماں ہونے کی دعویدار ہوا اور گواہیاں ایک جیسی پختہ اور مضبوط ہیں اس لئے میرے لئے تو اب ایک ہی راہ ہے میں آدمی منگواتا ہوں بچے کو دوحصوں میں کاٹ دیتا ہوں۔ایک حصہ ایک عورت لے جائے اور دوسرا حصہ دوسری عورت۔اس پر اس بچے کی حقیقی ماں بولی کہ میں اس بچے کی مال نہیں ہوں۔اس کو سالم رہنے دو اور دوسری عورت کو دے دو۔پس پاکستان کو اب تک حقیقی ماں نہیں ملی ، آری چل گئی۔ملک دوحصوں میں تقسیم ہو گیا۔پھر بھی کسی کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ ہوا۔یہاں الیکشن ہوئے اور وہ بھی بڑی دیر کے بعد۔ان الیکشنوں کے دوران غلط باتیں بھی ہوئی ہوں گی۔اس سے انکار نہیں لیکن بحیثیت مجموعی جہاں تک ہمیں علم ہے ایسی دھاندلیاں نہیں ہوئیں جو سارے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کا جواز پیدا کرتی ہوں۔جب الیکشن ہوئے تو کچھ سیاسی پارٹیوں کو زیادہ نمائندگی ملی اور کچھ کو کم ملی۔جب ملک بٹ گیا تو پھر مزید حالات خراب ہو گئے۔قتل و غارت ہوا۔ہماری قوم نے دُکھ اُٹھایا یہاں بھی کہنے کو جنگ ہوئی بھی اور عملاً جنگ نہیں بھی ہوئی۔اس تفصیل میں کیا جاؤں بڑی دُکھ دہ کہانی ہے اور پھر ایسے حالات پیدا ہوئے کہ اس حصہ ملک میں جس پارٹی کی اکثریت تھی اس کوحکومت مل گئی اور اس حصہ ملک یعنی مشرقی پاکستان میں جو پارٹی اکثریت میں تھی اس کو حکومت مل گئی۔اب جبکہ جمہوری طریقے پر نمائندگی ملی تھی تو جمہوریت کا تقاضا ہے کہ پانچ سات سال کے بعد جب دوبارہ انتخاب ہوگا تو جمہوری طریقے پر ووٹ لینے کی کوشش کی جائے اور اس طرح جس پارٹی کو اکثریت مل جائے وہ حکومت کرے مگر نہیں۔جمہوریت کا نام لے کر غیر جمہوری اور کند چھری سے جمہوریت کی گردن کاٹنے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔یہاں تک کہ کسی نے یہ نعرہ لگا دیا کہ گزشتہ عام انتخابات ہی ٹھیک نہیں تھے۔اگر اس طرح نعرہ لگانے سے صحیح انتخابات بھی غلط ہو جاتے ہیں اور ٹھیک انتخابات بھی ٹھیک نہیں رہتے تو پھر جو اگلا انتخاب ہوگا۔اس کے خلاف بھی یہی نعرے لگیں گے پھر تو یہ نعرے قیامت تک لگتے چلے جائیں گے اور ہماری مظلوم قوم دُکھ اٹھاتی رہے گی۔اس لئے بہتر صورت یہ ہے کہ لوگ چار پانچ سال تک انتظار کریں موجودہ حکومت کو کام کرنے کا موقع دیں۔پھر جب اگلا انتخاب آئے تو پھر جمہوری طریقے پر انتخاب لڑیں مگر اب حالت یہ ہے کہ لوگ موجودہ حکومت کے