خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 594 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 594

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۵۹۴ ۲۸ / دسمبر ۱۹۷۲ء۔اختتامی خطاب اللہ تعالیٰ کی چار بنیادی صفات بیان کی ہیں۔جنہیں ائم الصفات یا اصل الاصول کہہ سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری صفات کے مظہر اتم ہیں۔تمہیں ہر صفت کے متعلق تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں۔میری بنیادی صفات ہیں اُن کے آپ مظہر اتم ہیں۔تم دیکھ لو۔آپ رحمتہ للعالمین ہیں۔آپ کی زندگی میں رحمانیت کے جلوے نظر آتے ہیں۔آپ کی زندگی میں رحیمیت اور مالکیت کے جلوے کامل طور پر نظر آتے ہیں ایسے جلوے نہ کسی نے پہلے دکھائے اور نہ کوئی آئندہ دکھا سکتا ہے۔کیونکہ نہ پہلوں کو وہ استعدا د ملی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی اور نہ بعد میں آنے والوں کو مل سکتی ہے۔یہ نکتہ اور یہ مسئلہ بڑا اہم ہے کہ گو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان صفات کا مظہر اتم بنایا گیا مگر خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بُت بنالو اور ان کی پوجا کرنے لگو۔بلکہ خدا نے یہ فرمایا کہ میر احمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے اتنے قریب آ گیا ہے کہ کوئی طاقت اتنی قریب نہیں آسکتی یہ صرف صرف میرے محمد کو حاصل ہوا ہے اس نے انسانی طاقتوں کے لحاظ سے جتنا قرب حاصل کیا جا سکتا تھا اُس نے اتنا قرب حاصل کر لیا ہے۔اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اسوۂ حسنہ ہیں۔ہم بھی اپنی اپنی طاقت کے مطابق قرب الہی حاصل کر سکتے ہیں۔غرض پہلی بات یہ تھی کہ اپنی قوتوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچاؤ۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو مد نظر رکھو۔دوسرے یہ کہ انسان کو تمام قو تیں اور طاقتیں صفات باری تعالیٰ کا مظہر بننے کے لئے دی گئی ہیں۔تیسرے یہ کہ انسان کے صفات باری کا مظہر بننے کی علامت یہ ہے کہ اس کے وجود میں بھی حسن واحسان کے جلوے نظر آنے لگیں۔کیونکہ خود صفات باری میں بھی ایک جلوہ حسن کا اور دوسرا احسان کا نظر آتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی ایک جلوہ حسن کا اور دوسرا احسان کا نظر آتا ہے۔جس طرح خدا نور ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نو رکہا گیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفات باری کے مظہر اتم ہونے کے لحاظ سے اور لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک (موضوعات کبیر حرف اللام) کے بلند ترین شرف سے مشرف ہونے کی وجہ